اسلام آباد:حکومتِ پاکستان نے بیرونِ ملک مقیم لاکھوں پاکستانیوں کو اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن (OPF) کے دائرہ کار میں لانے اور ان پر مخصوص فیس عائد کرنے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔ اس نئے منصوبے کے تحت دنیا بھر میں مقیم تقریباً 12 ملین پاکستانیوں کے لیے فاؤنڈیشن کی ممبر شپ حاصل کرنا لازمی ہوگا۔
او پی ایف کی جانب سے حکومت کو دی گئی تجویز کے مطابق، ہر اوورسیز پاکستانی کو 5 سال کی مدت کے لیے 10 ہزار روپے فیس ادا کرنی ہوگی۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد سمندر پار پاکستانیوں کے بکھرے ہوئے ڈیٹا کو ایک جگہ منظم کرنا اور فاؤنڈیشن کے مالی وسائل میں اضافہ کرنا ہے تاکہ تارکینِ وطن کو دی جانے والی سہولیات کو بہتر بنایا جا سکے۔
تارکینِ وطن کو کیا ملے گا؟
چیئرمین او پی ایف سید قمر رضا کا کہنا ہے کہ ممبر شپ لازمی ہونے سے پاکستانیوں کو فاؤنڈیشن کے فلاحی منصوبوں تک رسائی ملے گی، جن میں شامل ہیں:
رہائشی اسکیموں میں ترجیح۔
بچوں کے لیے تعلیمی وظائف۔
قانونی امداد اور دیگر ہنگامی سہولیات۔
سید قمر رضا نے ایک حالیہ انٹرویو میں واضح کیا کہ جو لوگ ‘پروٹیکٹر آف ایمیگرینٹس’ کے ذریعے جاتے ہیں وہ پہلے ہی رجسٹرڈ ہیں، لیکن اب متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک سمیت پوری دنیا میں مقیم پاکستانیوں کو اس نیٹ ورک کا حصہ بنایا جائے گا۔
وزارتِ سمندر پار پاکستانیوں نے اس تجویز کی ابتدائی منظوری دے دی ہے، تاہم اس کا باقاعدہ نفاذ وزیراعظم شہباز شریف کی حتمی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔ چیئرمین کے مطابق 10 ہزار روپے کی رقم 5 سال کے لیے ایک معمولی بوجھ ہے، جس کے بدلے اوورسیز پاکستانیوں کی بہتر خدمت ممکن ہو سکے گی۔

