اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد 29 مارچ کو ایک انتہائی اہم سفارتی مرکز بننے جا رہا ہے، جہاں ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ ایک ہنگامی اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچیں گے۔
ذرائع کے مطابق، یہ اجلاس عالمی سیاسی منظر نامے میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ یہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ فوجی تصادم کے دہانے پر کھڑا ہے، اور صدر ٹرمپ کی جانب سے دی گئی 6 اپریل کی ڈیڈ لائن سر پر ہے۔
نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کل اتوار کو اسلام آباد پہنچ رہے ہیں جہاں پیر کے روز ان تمام اعلیٰ حکام کی وزیراعظم شہباز شریف سے اہم ملاقات ہو گی۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق یہ دورہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر ہو رہا ہے۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود، ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان اور مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی اسلام آباد پہنچیں گے۔
دورے کے دوران وزرائے خارجہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں سمیت اہم علاقائی و عالمی امور پر تفصیلی بات چیت کریں گے۔ معزز مہمان وزیراعظم سے بھی ملاقات کریں گے۔
سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ تہران کے ساتھ دیرینہ مراسم اور خلیجی ممالک سے قریبی تعلقات کے علاوہ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قائم ذاتی تعلقات اس عمل میں انتہائی معاون ثابت ہو رہے ہیں۔
اسی دوران ایرانی خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے لیے پیش کیے گئے 15 نکاتی منصوبے پر اپنا جواب اسلام آباد کے ذریعے واشنگٹن کو بھجوا دیا ہے۔ تاہم ایران نے اب تک امریکہ کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کا اعتراف نہیں کیا ہے۔
دوسری جانب سنیچر ہی کو ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ چونکہ پاکستانی ہم منصبوں کا اس وقت اپنے ملک میں رہنا ضروری تھا، اس لیے اجلاس کا مقام ترکیہ سے پاکستان منتقل کیا گیا ہے
اس اعلیٰ سطحی اجلاس کا بنیادی ایجنڈا مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بادلوں کو چھانٹنا اور ایران کی توانائی تنصیبات پر ممکنہ حملوں کو روکنے کے لیے ایک متفقہ ‘پیس روڈ میپ’ تیار کرنا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے اس اجلاس میں یہ انکشاف کیا جائے گا کہ کس طرح واشنگٹن اور تہران کے درمیان پس پردہ مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
اجلاس میں آبنائے ہرمز کی صورتحال اور عالمی تجارتی بحری جہازوں کو درپیش خطرات پر بھی تفصیلی غور کیا جائے گا، جہاں پاکستان کی جانب سے ثالثی کا کردار کلیدی رہا ہے۔
سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ اسلام آباد میں ان چاروں بااثر اسلامی ممالک کا اکٹھا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ مسلم امہ خطے میں کسی بھی بڑی تباہی کو روکنے کے لیے ایک پیج پر ہے۔
30 مارچ کو ہونے والی اس مشاورت کے نتائج نہ صرف 6 اپریل کی ڈیڈ لائن کے مستقبل کا تعین کریں گے بلکہ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں اور معاشی استحکام پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
پوری دنیا کی نظریں اسلام آباد سے جاری ہونے والے ممکنہ مشترکہ اعلامیے پر جمی ہوئی ہیں، جو خطے میں امن کی نئی بنیاد رکھ سکتا ہے۔

