اسلام آباد :پاکستان نے ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے ملک آنے والی غیر ملکی ایئرلائنز کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ واپسی کے لیے درکار ایندھن اپنے ساتھ لے کر آئیں۔ جبکہ دوسری جانب ائیرلائنز نے اپنے کرائے ڈبل کردئیے ہیں
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹم کے مطابق یہ ہدایت رواں ماہ مارچ کے اختتام تک کے لیے نافذ العمل ہے اور اس کا مقصد بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے ممکنہ اثرات سے پیشگی نمٹنا ہے۔
کام کے مطابق یہ فیصلہ کسی فوری بحران کے نتیجے میں نہیں بلکہ ایک احتیاطی حکمت عملی کے طور پر کیا گیا ہے۔ ترجمان پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باعث فضائی آپریشنز متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اور اسی پیش نظر یہ قدم اٹھایا گیا ہے تاکہ پروازوں کی روانگی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
دوسری طرف جیٹ فیول 176 روپے سے بڑھ کر 417 روپے فی لیٹر تک جا پہنچا، جیٹ فیول کی قیمتوں میں اضافے سے فضائی سفر مزید مہنگا ہونے کا خدشہ ہے۔ایئرلائنز حکام کے مطابق فیول کی بڑھتی قیمت کے بوجھ کو ٹکٹس میں منتقل کرنا ناگزیر ہے۔ جس کی وجہ سے ایئرلائنز نے کرایوں میں 100 فیصد تک اضافے کا عندیہ دیا ہے۔پی آئی اے نے اپنے لوکل پروازوں پر 10 ڈالر فیول سرچارج نافذ کیا ہے، جبکہ کینیڈا کے روٹس پر یہ اضافی چارج 100 ڈالر تک ہے۔برطانیہ جانے والی پروازوں پر 75 ڈالر جبکہ سعودی عرب اور گلف کے روٹس پر 50 ڈالر تک سرچارج لگایا گیا ہے۔نجی ایئرلائنز نے بھی 15 سے 150 ڈالر تک اضافی چارجز نافذ کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق کراچی سے اسلام آباد اور لاہور کے یک طرفہ کرائے 40 ہزار روپے تک پہنچ گئے ہیں لاہور اور اسلام آباد کے درمیان “چانس سیٹس” کے کرایوں میں 150 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جبکہ مختلف ڈومیسٹک روٹس پر چانس سیٹ کا یک طرفہ کرایہ 50 ہزار روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔
مشرق وسطیٰ، ٹورنٹو، پیرس اور مانچسٹر کے لیے اکنامی کلاس ٹکٹ قیمتیں 3 لاکھ سے 7 لاکھ روپے تک جا پہنچی ہیں۔
مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی حیثیت عالمی فضائی راستوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔ یورپ، ایشیا اور افریقہ کے درمیان سفر کرنے والی بیشتر پروازیں اسی خطے کی فضائی حدود سے گزرتی ہیں۔ ایسے میں اگر کسی ملک کی فضائی حدود بند ہو جائے یا سکیورٹی خدشات بڑھ جائیں تو ایئرلائنز کو متبادل اور طویل راستے اختیار کرنا پڑتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف پروازوں کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے بلکہ ایندھن کی کھپت بھی زیادہ ہو جاتی ہے، جو براہ راست اخراجات میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایئرلائنز کو جس بڑے چیلنج کا سامنا ہے وہ ایندھن کی منصوبہ بندی ہے۔ عام حالات میں طیارے منزل پر پہنچ کر وہیں سے واپسی کے لیے ایندھن حاصل کرتے ہیں، مگر اب انہیں اضافی ایندھن اپنے ساتھ لے کر سفر کرنا پڑ رہا ہے۔ اس عمل کو ٹینکرنگ کہا جاتا ہے، جو عام طور پر لاگت بچانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، مگر اس وقت یہ ایک مجبوری بن چکا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق اضافی ایندھن لے جانے کا مطلب ہے کہ طیارے کا وزن بڑھ جاتا ہے، اور ہر طیارے کی وزن اٹھانے کی ایک حد ہوتی ہے۔ اس حد کو برقرار رکھنے کے لیے ایئرلائنز کو یا تو مسافروں کی تعداد کم کرنا پڑتی ہے یا پھر کارگو اور سامان کو محدود کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں کئی مسافروں نے شکایت کی ہے کہ ان کا سامان پرواز میں شامل نہیں کیا گیا یا انہیں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔

