نیویارک : جیفری ایپسٹین کیس سے متعلق سامنے آنے والی نئی عدالتی دستاویزات نے دنیا کی طاقتور ترین کاروباری شخصیات کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ انکشاف ہوا ہے کہ میٹا کے سربراہ مارک زکربرگ اور ٹیسلا کے مالک ایلون مسک 2015 میں ایک ایسی ڈنر پارٹی کا حصہ تھے جس میں جیفری ایپسٹین بھی موجود تھا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق یہ ملاقات 3 اگست 2015 کو کیلیفورنیا میں ہوئی تھی۔ سامنے آنے والی ایک مبینہ تصویر میں ایلون مسک اور مارک زکربرگ کو ایک طویل ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تصویر خود ایپسٹین نے کھینچی تھی اور ثبوت کے طور پر خود کو ای میل کی تھی۔ اس وقت تک ایپسٹین کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ کے جرم میں سزا یافتہ مجرم قرار دیا جا چکا تھا۔
یہ انکشاف ایلون مسک کے لیے خاصا پریشان کن ثابت ہو رہا ہے کیونکہ محض چند ہفتے قبل انہوں نے عوامی سطح پر یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کا ایپسٹین کی کسی بھی محفل یا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ اس نئی تصویر نے ان کے دعوے کی ساکھ پر بڑے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
دستاویزات کے منظرِ عام پر آتے ہی سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے کہ دنیا کے بااثر ترین افراد ایک سزا یافتہ مجرم کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں کیوں کر رہے تھے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شواہد ایپسٹین کے طاقتور نیٹ ورک کی گہرائی کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

