برازیلیا (مانیٹرنگ ڈیسک): برازیل میں قانون اور انسانیت کا ایک ایسا سنگم دیکھنے کو ملا جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ ایک نوجوان چور، جو اپنی کم عمری یعنی18 سال سے کم عمر ہونے کی وجہ سے اب تک گرفتاری سے بچتا آ رہا تھا، بالآخر ایک ایسی ’پارٹی‘ کا حصہ بنا جسے وہ زندگی بھر نہیں بھولے گا۔
واقعہ کچھ یوں ہے کہ پولیس نے اس چور کو رنگے ہاتھوں پکڑا تو سہی، لیکن برازیلین قانون کے مطابق 18 سال سے کم عمر لڑکے کو باقاعدہ گرفتار کر کے جیل نہیں بھیجا جا سکتا تھا۔ اتفاق سے اس دن اس لڑکے کی 18ویں سالگرہ تھی۔ پولیس نے موقع غنیمت جانا اور تھانے کے اندر ہی اس کی سالگرہ کا جشن شروع کر دیا۔
پولیس کی خوشی، چور کی بے بسی:
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکار بڑی خوشی سے تالیاں بجا رہے ہیں، میز پر کیک اور کولڈ ڈرنکس سجی ہیں، جبکہ برتھ ڈے بوائے (چور) زار و قطار رو رہا ہے۔ پولیس اہلکاروں کی خوشی کی وجہ یہ تھی کہ جیسے ہی گھڑی کی سوئیوں نے 12 بجائے، وہ لڑکا قانونی طور پر ’بالغ‘ ہو گیا اور پولیس کے لیے اسے جیل بھیجنے کی راہ ہموار ہو گئی۔
مبارکباد یا گرفتاری؟
جیسے ہی جشن ختم ہوا اور لڑکا سرکاری طور پر 18 سال کا ہوا، پولیس نے اسے سالگرہ کا تہنیتی کارڈ دینے کے بجائے ہتھکڑی پہنائی اور اسے سیدھا سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا۔ یہ شاید تاریخ کی پہلی سالگرہ تھی جہاں موم بتیاں بجھنے کے ساتھ ہی ایک مجرم کی ’آزادی‘ کے چراغ بھی گل ہو گئے۔

