نیویارک/لندن: عالمی کرپٹو مارکیٹ اس وقت شدید مندی کی لپیٹ میں ہے جہاں دنیا کی سب سے بڑی ڈیجیٹل کرنسی، بٹ کوائن (Bitcoin) کی قیمت میں اچانک 40 فیصد تک کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس غیر متوقع کریش نے جہاں بڑے سرمایہ کاروں (Whales) کو حیران کر دیا ہے، وہی چھوٹے سرمایہ کار اپنی جمع پونجی ڈوبنے پر شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
قیمتوں میں گراوٹ کی بڑی وجوہات
معاشی ماہرین اس بڑی گراوٹ کے پیچھے کئی عوامل کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں:
عالمی ریگولیٹری دباؤ: مختلف ممالک کی جانب سے کرپٹو کرنسی پر پابندیوں اور ٹیکسیشن کے سخت قوانین نے مارکیٹ میں خوف و ہراس پھیلایا۔
بڑے سرمایہ کاروں کی فروخت: رپورٹ کے مطابق کچھ بڑے اکاؤنٹس سے ایک ساتھ بڑی مقدار میں بٹ کوائن فروخت کیے گئے، جس سے مارکیٹ کا توازن بگڑ گیا۔
عالمی معاشی غیریقینی صورتحال: بڑھتی ہوئی شرح سود اور مہنگائی کے باعث سرمایہ کار پرخطر اثاثوں سے پیسہ نکال کر محفوظ اثاثوں (جیسے سونا) کی طرف منتقل کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر "CryptoCrash#” ٹرینڈ کر رہا ہے، جہاں دنیا بھر سے سرمایہ کار اپنی مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔
"ایسا لگتا ہے جیسے ایک ہی رات میں زندگی بھر کی کمائی آدھی رہ گئی ہو۔” — ایک متاثرہ سرمایہ کار کا بیان۔
کئی ممالک میں کرپٹو ایکسچینجز پر ٹریفک کا اتنا دباؤ بڑھ گیا کہ ایپس اور ویب سائٹس ہینگ ہوگئیں، جس سے لوگوں کو اپنی ڈیجیٹل کرنسی فروخت کرنے میں بھی شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
‘ہولڈ’ کریں یا ‘فروخت’؟
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کرپٹو مارکیٹ ہمیشہ سے غیر مستحکم (Volatile) رہی ہے۔
پرامید پہلو: کچھ ماہرین اسے ‘خریداری کا سنہری موقع’ (Buy the Dip) قرار دے رہے ہیں، ان کا خیال ہے کہ مارکیٹ جلد ریکور کرے گی۔
دیگر ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ قیمتوں میں مزید کمی آ سکتی ہے، اس لیے جلد بازی میں فیصلہ کرنے کے بجائے انتظار کرنا بہتر ہے۔
کرپٹو مارکیٹ میں بڑا زلزلہ: بٹ کوائن کی قیمت میں 40 فیصد کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے اربوں ڈالرز ڈوب گئے

