امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں طالبان حکومت کے بارے میں پاکستان کے تحفظات سے آگاہ ہے اور اس حوالے سے مناسب کردار ادا کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔
سنیچر کو اٹلانٹا میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کو ان حملوں پر تشویش ہے جن کی پشت پناہی افغانستان کی سرزمین سے کی جا رہی ہے۔ پاکستان کا خیال ہے کہ طالبان نے ان حملوں کو روکنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کیے ہیں، اور اُنھوں نے اس کے خلاف کارروائی کی ہے۔‘
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پاکستان کے یہ تحفظات سنے ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان میں دہشت گردی اور اسے نشانہ بنایا جائے۔ لہذا اگر ہم اس معاملے میں کوئی بامعنی کردار ادا کر سکتے ہیں تو ہم کریں گے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’ہمارے طالبان حکومت کے ساتھ قریبی تعلقات نہیں ہیں، ہم نے پاکستان نے کی جانب سے اُٹھائے گئے تحفظات سنے ہیں اور ایسے بعض حملے بھی دیکھے ہیں جن کی طرف پاکستان اشارہ کرتا ہے، ہم دہشت گردی کے خلاف ہیں، چاہے وہ کہیں بھی ہو اور اس کا نشانہ کوئی بھی ہو۔‘
خیال رہے کہ پاکستان کا الزام رہا ہے کہ افغانستان میں پناہ لیے ہوئے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے شدت پسند پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں اور انھیں افغانستان میں طالبان حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے۔
لیکن افغان طالبان ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے یہ کہتے رہے ہیں کہ دہشت گردی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے اور پاکستان کی جانب سے افغان طالبان پر لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں۔
"افغان سرزمین سے دہشت گردی ": امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو پاکستان کے تحفظات پر بول پڑے؛ کیا واشنگٹن اب طالبان کو لگام دے گا؟

