سیالکوٹ (بیورو رپورٹ: سلیم احمد اعوان شیخو)
سیالکوٹ کے علاقہ ڈسکہ روڈ پر واقع فراز سپورٹس فیکٹری سے ملحقہ فراز سپورٹس سٹیڈیم اور سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی میں رونما ہونے والے ہنگامہ آرائی کے واقعے نے انتظامیہ اور پولیس کی کارکردگی پر شدید سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ذرائع کے مطابق، ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی مبینہ ڈرامہ بازی اور عوام کو پرکشش انعامات کا لالچ دے کر بیوقوف بنانے کے نتیجے میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی، جس کے دوران متعدد افراد شدید زخمی ہوئے، قیمتی جانیں خطرے میں پڑیں اور کئی افراد کو گرفتار بھی کیا گیا جبکہ مرکزی کردار "مسٹر پتلو” موقع سے غائب ہو گیا۔اس پورے واقعے نے مقامی انتظامیہ کی غفلت کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ عام شہریوں کے معمولی ٹریفک چالان کرنے والی ٹریفک پولیس سمیت ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) ڈسکہ اور تھانہ موترہ کی پولیس اور ایس ایچ او مبینہ طور پر اس بات سے بالکل بے خبر رہے کہ اتنے دنوں سے علاقے میں کیا کچھ ہو رہا ہے اور دولت کی کھلی نمائش کتنی بڑی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ عوام کو کسی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا اور جب نقصان ہو گیا تب جاکر ہوش آیا۔دوسری طرف، اس واقعے پر مذہبی و سیاسی حلقوں کا کردار بھی زیرِ بحث ہے۔ عوامی حلقوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر کوئی غریب شہری محفلِ سماع (قوالی) یا کوئی لائٹ میوزک کا چھوٹا موٹا پروگرام کروانا چاہے تو جماعت اسلامی فوری طور پر پابندی لگوانے کے لیے میدان میں آ جاتی ہے، لیکن اتنی بڑی بدنظمی، ہنگامہ آرائی اور خونی کھیل کے دوران جماعت اسلامی کی خاموشی ہر کسی کی سمجھ سے بالاتر ہے۔پولیس نے واقعے کے بعد مسٹر پتلو اور چند دیگر افراد کے خلاف مقدمہ تو درج کر لیا ہے، تاہم عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے کہ روایتی سست روی کی وجہ سے اس معاملے میں بھی ہمیشہ کی طرح "مٹی پاؤ” پالیسی اپنائی جائے گی اور مجرم قانون کی گرفت سے بچ نکلیں گے۔


