تحریر :حنا حفیظ
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
زندگی میں ایک مقام ایسا بھی آتا ہے جہاں انسان آہستہ آہستہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ ہر بات کا جواب دینا، ہر شخص کو خوش رکھنا اور ہر چیز کو اپنی مرضی کے مطابق کرنا ضروری نہیں۔ وہ جان لیتا ہے کہ زندگی صرف خواہشات پوری ہونے کا نام نہیں، بلکہ حقیقتوں کو قبول کرکے آگے بڑھنے کا نام بھی ہے۔
کبھی سڑک کے کنارے بنی جھگیوں سے گزرتے ہوئے خیال آتا ہے کہ وہاں رہنے والے لوگ کس طرح اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ کپڑے کے ٹکڑوں سے بنی چھتیں، محدود وسائل، گرد و غبار میں کھیلتے بچے اور اردگرد سے گزرتے لوگوں کی نظریں۔ مگر زندگی وہاں بھی جاری ہے۔ بچے کھیلتے ہیں، لوگ کھاتے ہیں، آرام کرتے ہیں اور اگلے دن کا سامنا کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی کے مسائل اپنی جگہ، لیکن یہ منظر ایک سوال ضرور پیدا کرتا ہے: ہم اپنی زندگی کا سکون دوسروں کی نظروں اور ان کی رائے کے حوالے کیوں کر دیتے ہیں؟
شاید زندگی کو سمجھنے کا ایک مرحلہ وہ ہے جہاں انسان دوسروں کی نظروں سے نکل کر اپنی زندگی میں داخل ہونا سیکھ لیتا ہے۔
انسان اپنی زندگی کا بڑا حصہ دو چیزوں میں گزار دیتا ہے: ماضی کے افسوس اور مستقبل کے خوف میں۔ جو گزر گیا، اس کے بارے میں سوچتا رہتا ہے کہ کاش ایسا نہ ہوا ہوتا، اور جو ابھی آیا نہیں، اس کے بارے میں پریشان رہتا ہے کہ اگر ایسا ہو گیا تو کیا ہوگا؟ ان دونوں کے درمیان آج کا دن خاموشی سے گزر جاتا ہے۔
پھر ایک وقت آتا ہے جب انسان سمجھ لیتا ہے کہ جو ہو گیا، اسے بدلا نہیں جا سکتا، اور جو ہونے والا ہے، اسے مکمل طور پر جاننا ممکن نہیں۔ وہ ماضی سے سبق لینا اور مستقبل کے لیے کوشش کرنا تو نہیں چھوڑتا، مگر ان دونوں کی خاطر اپنے حال کا سکون قربان کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
حال کی قدر ہی زندگی کی قدر ہے
ہم اکثر اس انتظار میں رہتے ہیں کہ پہلے حالات بہتر ہوں، تمام مسائل حل ہوں، خواب پورے ہوں اور زندگی ہماری مرضی کے مطابق ہو، تب ہم سکون سے جینا شروع کریں گے۔ لیکن زندگی ہمیشہ ہمارے انتظار میں نہیں ٹھہرتی۔ وقت گزرتا رہتا ہے، لوگ بدلتے رہتے ہیں اور حالات اپنا رخ بدلتے رہتے ہیں۔
ایک عام سا دن، اپنے پیاروں کے ساتھ چند لمحے، سکون سے پی جانے والی چائے، کسی بچے کی ہنسی یا شام کے آسمان کا بدلتا رنگ—یہی وہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہیں جنہیں ہم اکثر مستقبل کی فکر میں نظر انداز کر دیتے ہیں۔
ماضی ہماری یاد ہے، مستقبل ہمارا امکان، لیکن حال ہماری حقیقت ہے۔ ماضی سے سبق لیا جا سکتا ہے، مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے، مگر جیا صرف آج کو جا سکتا ہے۔
زندگی کو قابو نہیں، قبول کرنا سیکھیں
زندگی کی پختگی بے حس ہو جانے کا نام نہیں، بلکہ ہر چیز کو محسوس کرنے کے باوجود اپنے اندر سکون برقرار رکھنے کا نام ہے۔ انسان کوشش کرتا ہے، اپنی ذمہ داریاں نبھاتا ہے، اپنی اصلاح کرتا ہے اور اپنے خوابوں کے لیے محنت بھی کرتا ہے، لیکن ہر نتیجے کو اپنی مرضی کے مطابق کرنے کی ضد چھوڑ دیتا ہے۔
وہ سمجھ لیتا ہے کہ ہر شخص اسے نہیں سمجھے گا، ہر رشتہ ہمیشہ ساتھ نہیں رہے گا، ہر کوشش کامیاب نہیں ہوگی اور ہر سوال کا جواب نہیں ملے گا۔ جہاں تبدیلی ممکن ہو، وہاں کوشش کرنی چاہیے، اور جہاں اختیار ختم ہو جائے، وہاں حقیقت کو قبول کرنا سیکھنا چاہیے۔
کیونکہ سکون اس دن نہیں ملتا جب زندگی میں سب کچھ ہماری مرضی کے مطابق ہو جائے، بلکہ اس دن ملتا ہے جب ہم سمجھ لیتے ہیں کہ سب کچھ ہماری مرضی کے مطابق ہونا ضروری نہیں۔
زندگی کا سب سے مضبوط انسان وہ نہیں جس کے ساتھ کبھی کچھ برا نہ ہوا ہو، بلکہ وہ ہے جس نے بہت کچھ سہنے اور کھونے کے بعد بھی جینا نہ چھوڑا ہو۔ وہ ماضی کو اپنی قید نہیں بناتا، مستقبل کو اپنا خوف نہیں بننے دیتا اور حال کو دوسروں کی رائے کے حوالے نہیں کرتا۔
آخرکار، ہم ہر چیز کو روک نہیں سکتے، ہر شخص کو اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتے اور ہر واقعے کو اپنی مرضی کے مطابق نہیں بنا سکتے۔ لیکن ہم یہ ضرور سیکھ سکتے ہیں کہ بدلتے حالات کے درمیان خود کو کیسے سنبھالنا ہے اور موجودہ لمحے کو کس طرح پوری آگاہی کے ساتھ جینا ہے۔
جو گزر گیا، وہ زندگی کا حصہ تھا۔ جو آنے والا ہے، وہ وقت بتائے گا۔ اور جو آج ہمارے پاس ہے، وہی زندگی ہے۔
شاید زندگی کو سمجھنے کے لیے اتنا شعور ہی کافی ہے کہ انسان ماضی سے سبق لے، مستقبل کے لیے کوشش کرے، مگر جینا ہمیشہ حال میں سیکھے۔
hina.hafeez606@gmail.com

