Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      واٹس ایپ کا سرپرائز: انسٹاگرام ریلز اب براہِ راست شئیر کرنیکے لئے نیا فیچر تیار! طریق کار جانئیے

      ’’کام رکے نہ کاروبار’’ ویو نے طاقتور ترین بیٹری والا فون Y32 متعارف کرا دیا

      روایتی جنگ کا دور ختم: سافٹ ویئر اور مصنوعی ذہانت نے تاریخ بدل دی

      NCCIA کا چھاپہ ، فحش کارٹون فلمیں بنانے اور بیرون ملک ڈسٹری بیوٹ کرنیوالا گروہ پکڑا گیا، 42 گرفتار،12 بچے بازیاب

      وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت طلبہ میں 5 لاکھ کروم بکس تقسیم کرنے کا اعلان، جانئے درخواست کا طریقہ کار

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ’’گزرے کل سے آگے ماضی کے افسوس سے نکل کر حال کو جینے اور مستقبل کے خوف سے آزاد ہونے کا نام زندگی’’

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر :حنا حفیظ
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    زندگی میں ایک مقام ایسا بھی آتا ہے جہاں انسان آہستہ آہستہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ ہر بات کا جواب دینا، ہر شخص کو خوش رکھنا اور ہر چیز کو اپنی مرضی کے مطابق کرنا ضروری نہیں۔ وہ جان لیتا ہے کہ زندگی صرف خواہشات پوری ہونے کا نام نہیں، بلکہ حقیقتوں کو قبول کرکے آگے بڑھنے کا نام بھی ہے۔
    کبھی سڑک کے کنارے بنی جھگیوں سے گزرتے ہوئے خیال آتا ہے کہ وہاں رہنے والے لوگ کس طرح اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ کپڑے کے ٹکڑوں سے بنی چھتیں، محدود وسائل، گرد و غبار میں کھیلتے بچے اور اردگرد سے گزرتے لوگوں کی نظریں۔ مگر زندگی وہاں بھی جاری ہے۔ بچے کھیلتے ہیں، لوگ کھاتے ہیں، آرام کرتے ہیں اور اگلے دن کا سامنا کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی کے مسائل اپنی جگہ، لیکن یہ منظر ایک سوال ضرور پیدا کرتا ہے: ہم اپنی زندگی کا سکون دوسروں کی نظروں اور ان کی رائے کے حوالے کیوں کر دیتے ہیں؟
    شاید زندگی کو سمجھنے کا ایک مرحلہ وہ ہے جہاں انسان دوسروں کی نظروں سے نکل کر اپنی زندگی میں داخل ہونا سیکھ لیتا ہے۔
    انسان اپنی زندگی کا بڑا حصہ دو چیزوں میں گزار دیتا ہے: ماضی کے افسوس اور مستقبل کے خوف میں۔ جو گزر گیا، اس کے بارے میں سوچتا رہتا ہے کہ کاش ایسا نہ ہوا ہوتا، اور جو ابھی آیا نہیں، اس کے بارے میں پریشان رہتا ہے کہ اگر ایسا ہو گیا تو کیا ہوگا؟ ان دونوں کے درمیان آج کا دن خاموشی سے گزر جاتا ہے۔
    پھر ایک وقت آتا ہے جب انسان سمجھ لیتا ہے کہ جو ہو گیا، اسے بدلا نہیں جا سکتا، اور جو ہونے والا ہے، اسے مکمل طور پر جاننا ممکن نہیں۔ وہ ماضی سے سبق لینا اور مستقبل کے لیے کوشش کرنا تو نہیں چھوڑتا، مگر ان دونوں کی خاطر اپنے حال کا سکون قربان کرنا چھوڑ دیتا ہے۔

    حال کی قدر ہی زندگی کی قدر ہے
    ہم اکثر اس انتظار میں رہتے ہیں کہ پہلے حالات بہتر ہوں، تمام مسائل حل ہوں، خواب پورے ہوں اور زندگی ہماری مرضی کے مطابق ہو، تب ہم سکون سے جینا شروع کریں گے۔ لیکن زندگی ہمیشہ ہمارے انتظار میں نہیں ٹھہرتی۔ وقت گزرتا رہتا ہے، لوگ بدلتے رہتے ہیں اور حالات اپنا رخ بدلتے رہتے ہیں۔
    ایک عام سا دن، اپنے پیاروں کے ساتھ چند لمحے، سکون سے پی جانے والی چائے، کسی بچے کی ہنسی یا شام کے آسمان کا بدلتا رنگ—یہی وہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہیں جنہیں ہم اکثر مستقبل کی فکر میں نظر انداز کر دیتے ہیں۔
    ماضی ہماری یاد ہے، مستقبل ہمارا امکان، لیکن حال ہماری حقیقت ہے۔ ماضی سے سبق لیا جا سکتا ہے، مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے، مگر جیا صرف آج کو جا سکتا ہے۔
    زندگی کو قابو نہیں، قبول کرنا سیکھیں
    زندگی کی پختگی بے حس ہو جانے کا نام نہیں، بلکہ ہر چیز کو محسوس کرنے کے باوجود اپنے اندر سکون برقرار رکھنے کا نام ہے۔ انسان کوشش کرتا ہے، اپنی ذمہ داریاں نبھاتا ہے، اپنی اصلاح کرتا ہے اور اپنے خوابوں کے لیے محنت بھی کرتا ہے، لیکن ہر نتیجے کو اپنی مرضی کے مطابق کرنے کی ضد چھوڑ دیتا ہے۔
    وہ سمجھ لیتا ہے کہ ہر شخص اسے نہیں سمجھے گا، ہر رشتہ ہمیشہ ساتھ نہیں رہے گا، ہر کوشش کامیاب نہیں ہوگی اور ہر سوال کا جواب نہیں ملے گا۔ جہاں تبدیلی ممکن ہو، وہاں کوشش کرنی چاہیے، اور جہاں اختیار ختم ہو جائے، وہاں حقیقت کو قبول کرنا سیکھنا چاہیے۔
    کیونکہ سکون اس دن نہیں ملتا جب زندگی میں سب کچھ ہماری مرضی کے مطابق ہو جائے، بلکہ اس دن ملتا ہے جب ہم سمجھ لیتے ہیں کہ سب کچھ ہماری مرضی کے مطابق ہونا ضروری نہیں۔
    زندگی کا سب سے مضبوط انسان وہ نہیں جس کے ساتھ کبھی کچھ برا نہ ہوا ہو، بلکہ وہ ہے جس نے بہت کچھ سہنے اور کھونے کے بعد بھی جینا نہ چھوڑا ہو۔ وہ ماضی کو اپنی قید نہیں بناتا، مستقبل کو اپنا خوف نہیں بننے دیتا اور حال کو دوسروں کی رائے کے حوالے نہیں کرتا۔
    آخرکار، ہم ہر چیز کو روک نہیں سکتے، ہر شخص کو اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتے اور ہر واقعے کو اپنی مرضی کے مطابق نہیں بنا سکتے۔ لیکن ہم یہ ضرور سیکھ سکتے ہیں کہ بدلتے حالات کے درمیان خود کو کیسے سنبھالنا ہے اور موجودہ لمحے کو کس طرح پوری آگاہی کے ساتھ جینا ہے۔
    جو گزر گیا، وہ زندگی کا حصہ تھا۔ جو آنے والا ہے، وہ وقت بتائے گا۔ اور جو آج ہمارے پاس ہے، وہی زندگی ہے۔
    شاید زندگی کو سمجھنے کے لیے اتنا شعور ہی کافی ہے کہ انسان ماضی سے سبق لے، مستقبل کے لیے کوشش کرے، مگر جینا ہمیشہ حال میں سیکھے۔
    hina.hafeez606@gmail.com

    Related Posts

    واٹس ایپ کا سرپرائز: انسٹاگرام ریلز اب براہِ راست شئیر کرنیکے لئے نیا فیچر تیار! طریق کار جانئیے

    سیالکوٹ: یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر ریلی اور تقریب، کشمیری عوام سے بھرپور اظہارِ یکجہتی

    نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کا ہائی الرٹ: سرکاری افسران کے لیے خصوصی ایڈوائزری جاری

    مقبول خبریں

    واٹس ایپ کا سرپرائز: انسٹاگرام ریلز اب براہِ راست شئیر کرنیکے لئے نیا فیچر تیار! طریق کار جانئیے

    سیالکوٹ: یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر ریلی اور تقریب، کشمیری عوام سے بھرپور اظہارِ یکجہتی

    نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کا ہائی الرٹ: سرکاری افسران کے لیے خصوصی ایڈوائزری جاری

    بھارت کا نیوزی لینڈ کو تیسرے ٹی ٹوئنٹی میں 6 وکٹوں سے شکست کا تحفہ، سیریز میں 3-0 کی فیصلہ کن برتری

    قصور: کمسن بچیوں کے زبردستی نکاح کی کوشش ناکام، پولیس کا فوری ایکشن، دونوں دولہے، نکاح خواں اور گواہ گرفتار

    بلاگ

    ’’گزرے کل سے آگے ماضی کے افسوس سے نکل کر حال کو جینے اور مستقبل کے خوف سے آزاد ہونے کا نام زندگی’’

    درگاہ حضرت سچل سرمستؒ

     فصلی بٹیروں سے بچیے!

    ’’​پولیس افسر سے سوال کرنے کی سزا!’’ میاں حبیب کا کالم

    ضلع سانگھڑ میں امن و امان کی ابتر صورتحال: مثالی امن سے جرائم کے گڑھ تک کا تلخ سفر

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.