تہران :ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری میجر جنرل محسن رضائی نے کہا ہے کہ واشنگٹن کے سفارتی لب و لہجے اور رویے میں ایک مکمل اور واضح تبدیلی آئی ہے، جسے تہران کی جانب سے ایک مثبت اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق محسن رضائی نے ایک خصوصی انٹرویو کے دوران انکشاف کیا کہ انہیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا ایک اہم خط موصول ہوا ہے، جس کا انہوں نے اور ایرانی قیادت نے بغور جائزہ بھی لیا ہے، تاہم اس کا تاحال کوئی باضابطہ جوابی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت ملک کے اندر اس سنگین موضوع پر گہری بحث جاری ہے کہ اگر خلیجی خطے میں دوبارہ جنگ چھڑتی ہے تو ایران کو اپنی موجودہ روایتی جوہری پالیسی پر قائم رہنا چاہیے یا اس میں کوئی بڑی تبدیلی لانی چاہیے۔ ایرانی رہنما کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی قوم نے اپنی استقامت اور طاقت کو بخوبی مستحکم کر لیا ہے، اور اگرچہ حکومت کی طرف سے فی الحال جوہری پالیسی میں تبدیلی کے حوالے سے کوئی حتمی اور سرکاری فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم اندرونی سطح پر ممکنہ نئی جنگ کی صورت میں سابقہ مؤقف کو برقرار رکھنے یا تبدیل کرنے کے آپشنز پر سنجیدہ غوروخوض جاری ہے۔
جے ڈی وینس کا خط مل گیا،واشنگٹن کے لہجے میں مکمل تبدیلی ایک مثبت اشارہ ہے: محسن رضائی

