نئی دہلی:
بھارت کے معروف سیاستدان اور سابق وزیر محمد اعظم خان کی ایک بار پھر گرفتاری اور قانونی مشکلات کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ اس تازہ ترین کارروائی پر سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے، جس میں اسے اقلیتوں کے خلاف انتقامی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق اس پورے معاملے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ”مسلمان ہونے کی سزا“ قرار دیا گیا ہے، جو ملک میں اقلیتوں کو درپیش عدالتی اور سیاسی چیلنجز کی سنگین عکاسی کرتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارت میں اقدامی سیاست کے تحت خاص طور پر مسلمان رہنماؤں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔دوسری جانب، سماج وادی پارٹی کے صدر اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے اس معاملے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ حکمران جماعت سیاسی انتقام کی آگ میں اندھی ہو چکی ہے اور وہ اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے آئینی اداروں کا بیجا اور من مانا استعمال کر رہی ہے۔ اکھلیش یادو نے اس گرفتاری کو غیر منصفانہ اور جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا۔سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس گرفتاری کے بعد ریاست میں ایک بار پھر سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا ہے اور آنے والے دنوں میں اپوزیشن جماعتیں اس معاملے پر حکومت کو مزید گھیرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔

