اسلام آباد/واشنگٹن:
افغانستان میں امریکی افواج کے انخلا کے دوران پیچھے چھٹنے والا اربوں ڈالر مالیت کا جدید فوجی سازوسامان اب خطے بالخصوص پاکستان کے لیے سنگین سکیورٹی خطرہ بن گیا ہے۔ بین الاقوامی جریدوں اور سکیورٹی رپورٹس میں یہ ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں کہ یہ جدید جنگی سامان مختلف شدت پسند اور دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھوں میں پہنچ چکا ہے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس اور عسکری ماہرین کے مطابق، افغانستان میں چھوڑے گئے اندازاً 7 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے اس جدید اسلحے میں نائٹ ویژن ڈیوائسز، تھرمل سسٹمز، اسالٹ رائفلز، اور کمیونیکیشن کے جدید آلات شامل ہیں۔ ان ہتھیاروں کی دہشت گرد نیٹ ورکس تک رسائی نے ان کی جنگی اور رات کے وقت حملے کی صلاحیت (Night-fighting capabilities) میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔رپورٹس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم اور دیگر عالمی اداروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ افغانستان کے موجودہ حکمرانوں کے ادوار میں یہ اسلحہ بلیک مارکیٹ کے راستے کالعدم تنظیموں (جیسے ٹی ٹی پی اور دیگر مسلح گروہوں) تک منتقل ہو رہا ہے۔پاکستان کے سیکورٹی حکام اور دفترِ خارجہ اس حوالے سے بارہا عالمی برادری کو خبردار کر چکے ہیں کہ افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد ان ہی امریکی ساختہ جدید ہتھیاروں کا استعمال پاکستانی سکیورٹی فورسز اور اہم تنصیبات کے خلاف کارروائیوں میں کر رہے ہیں۔دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس غیر قانونی اسلحے کی تجارت اور ترسیلی نیٹ ورکس نے خطے میں امن و امان کی صورتحال کو انتہائی نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ عالمی تھنک ٹینکس نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر اس بلیک مارکیٹ اور اسلحے کی غیر قانونی نقل و حرکت کو فوری طور پر نہ روکا گیا، تو اس کے جنوبی ایشیا کے امن پر انتہائی تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔

