اسلام آباد (سائبر ڈیسک): پاکستان کی نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (National CERT) نے واٹس ایپ ویب، ڈیسک ٹاپ ایپلیکیشن اور ای میل مواصلات کے ذریعے ممکنہ سائبر حملوں کے شدید خدشے کے پیشِ نظر ملک بھر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ جاری کردہ ہنگامی ایڈوائزری میں سرکاری اداروں، اہم محکموں کے حکام اور حساس ڈیٹا تک رسائی رکھنے والے افراد کو سخت سیکیورٹی اقدامات اور احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نیشنل سائبر ایڈوائزری کے مطابق، سائبر حملہ آور سرکاری محکموں کی جعلی شناخت (Impersonation) استعمال کرتے ہوئے ‘ٹارگٹڈ فشنگ’ (Targeted Phishing) کی تکنیک اپنا رہے ہیں۔ یہ ہیکرز جعلی سرکاری دستاویزات، موصول ہونے والی ای میلز اور پی ڈی ایف یا زپ فائلوں کے ذریعے ونڈوز سسٹمز پر ‘ریموٹ کنٹرول میلویئر’ منتقل کر رہے ہیں، جس کا بنیادی مقصد حساس پاس ورڈز، خفیہ سیکیورٹی الگورتھم اور سرکاری ڈیٹا چرانا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ڈائریکٹوریٹ نے تمام سرکاری افسران اور حساس معلوماتی اداروں کے لیے مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر لازمی قرار دی ہیں:
1. واٹس ایپ ویب سے گریز: حساس معلومات سے منسلک افسران اپنے ونڈوز (Windows) کمپیوٹرز پر واٹس ایپ ویب یا ڈیسک ٹاپ ورژن کے استعمال سے مکمل طور پر پرہیز کریں۔
2. مشکوک لنکس اور اٹیچمنٹس: ای میل یا واٹس ایپ پر موصول ہونے والے کسی بھی غیر مصدقہ لنک، پی ڈی ایف، یا زپ (Zip) فائل کو ہرگز نہ کھولیں۔
3. ٹو فیکٹر تصدیق (2FA): تمام سرکاری ای میل اکاؤنٹس اور سوشل میڈیا/مواصلاتی ایپس پر ‘ٹو سٹیپ ویریفکیشن’ فوری طور پر فعال رکھی جائے۔
4. مشکوک سیشنز کا خاتمہ: واٹس ایپ ڈیوائسز کی لسٹ باقاعدگی سے چیک کی جائے اور تمام نامعلوم یا مشکوک سیشنز کو فوراً لاگ آؤٹ (Log Out) کر دیا جائے۔
ایڈوائزری میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کسی افسر یا ادارے کا کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ اس میلویئر سے متاثر ہو جائے، تو اس ڈیوائس کو بغیر کسی تاخیر کے فوری طور پر انٹرنیٹ اور لوکل ایریا نیٹ ورک (LAN) سے کاٹ کر الگ کر دیا جائے، اور سسٹم کے لاگز (System Logs) کو محفوظ بنا کر سیکیورٹی ٹیمز کو فوری رپورٹ کیا جائے تاکہ مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کا ہائی الرٹ: سرکاری افسران کے لیے خصوصی ایڈوائزری جاری

