بھریاسٹی بے نقاب نیوزمجاہد علی مغل
نوشہروفیروز شہر میں نکاح رجسٹریشن کے نام پر غریب عوام کی جیبیں کاٹنے کا مکروہ دھندا بے نقاب ہوگیا ہے! یونین کونسل کے پرانے اور سستے نظام کو ختم کر کے وارڈز کے قیام اور میونسپل کمیٹی کی مبینہ من مانیوں نے غریب عوام اور نکاح خوانوں کا جینا محال کر دیا ہے۔ رجسٹریشن فیس کو آسمان پر پہنچا کر 200، 300 روپے سے یکدم 2 ہزار سے 2500 روپے تک بڑھانے کے خلاف آئی بی اے کالج، مٹھیانی روڈ کی مسجد کے پیش امام مولانا علی شیر کوسی میدان میں آ گئے ہیں اور انہوں نے ضلعی انتظامیہ کے خلاف سخت احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے ہلچل مچا دی ہے۔صحافیوں سے ہنگامی گفتگو کرتے ہوئے مولانا علی شیر کوسی نے انکشاف کیا کہ دیہاتوں میں غریب عوام پہلے ہی محدود وسائل کی چکی میں پس رہے ہیں، جہاں نکاح پڑھانے کے عوض انہیں بمشکل 500 سے 1500 روپے تک ملتے ہیں۔ ایسے میں رجسٹریشن کے نام پر ہزاروں روپے کی ظالمانہ وصولی غریبوں کے منہ سے نوالہ چھیننے کے مترادف ہے۔انہوں نے انتہائی سنگین الزام عائد کیا کہ میونسپل کمیٹی کی جانب سے اتنی بھاری رقم وصول کرنے کے باوجود کوئی باقاعدہ رسید جاری نہیں کی جاتی، جس سے اس پوری وصولی میں کرپشن اور شفافیت کے فقدان کے سیاہ بادل منڈلا رہے ہیں۔مشتعل پیش امام نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اعلیٰ حکام کو دنگ کردینے والا الٹی میٹم دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر نکاح رجسٹریشن کی سرکاری فیس کو واضح کر کے پبلک کیا جائے، ہر پائی کی رسید دینے کو لازمی بنایا جائے اور اس مبینہ لوٹ مار کی فوری اور شفاف جانچ کروا کر عوام کو انصاف فراہم کیا جائے— بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔


