سری نگر (ویب ڈیسک):
مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، صنعتی ترقی کے فقدان اور معاشی دباؤ نے نوجوانوں کو شدید مایوسی کے دلدل میں دھکیل دیا ہے، اور اب یہی مایوسی جعلی ایجنٹوں اور فراڈی ٹریول مافیا کے لیے ‘سونے کی چڑیا’ بن گئی ہے۔ خلیجی ممالک (خصوصاً سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اومان وغیرہ) میں لاکھوں روپے تنخواہ اور پرتعیش زندگی کے جھوٹے خواب دکھا کر کشمیری نوجوانوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کا گھناؤنا دھندا عروج پر پہنچ چکا ہے۔ذرائع کے مطابق، سوشل میڈیا (فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ گروپس) کے ذریعے متحرک یہ غیر رجسٹرڈ ایجنٹس اور نام نہاد ٹریول کمپنیاں بیرون ملک ملازمت کے جعلی اشتہارات کے ذریعے سادہ لوح نوجوانوں کو اپنا آسان ہدف بناتی ہیں۔ ان دھوکہ باز ایجنٹوں کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر نوجوان اپنی جمع پونجی، گھر کے زیورات اور یہاں تک کہ زرعی زمینیں تک فروخت یا گروی رکھ کر لاکھوں روپے ان کے حوالے کر دیتے ہیں۔تاہم، جب یہ بدنصیب نوجوان لاکھوں روپے کا قرض اٹھا کر یا سب بیچ کر خلیجی ممالک پہنچتے ہیں تو ان پر حقیقت کا دروازہ ہتھوڑے کی طرح کھلتا ہے۔ وہاں نہ تو کوئی طے شدہ ملازمت ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی پرسانِ حال؛ انہیں یا تو ایئرپورٹ پر ہی چھوڑ دیا جاتا ہے یا وزٹ ویزے پر ہوٹلوں اور خستہ حال کمروں میں بند کر دیا جاتا ہے، جہاں وہ نہ تو واپس آ سکتے ہیں اور نہ ہی قانونی طور پر کام کر سکتے ہیں۔متاثرہ نوجوانوں اور ان کے خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ مالی نقصان کے ساتھ ساتھ شدید ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی اذیت کا شکار ہو چکے ہیں۔ کشمیری عوامی حلقوں اور سماجی تنظیموں نے اس سنگین صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ان جعلی ٹریول ایجنٹوں کے خلاف سخت ترین کریک ڈاؤن کیا جائے تاکہ مزید نوجوانوں کا مستقبل برباد ہونے سے بچایا جا سکے۔بیرون ملک سفر یا ملازمت کے لیے کسی بھی ایجنٹ کو رقم دینے سے پہلے اس کی قانونی رجسٹریشن اور ٹریول ایجنسی کینادرت (مطلقہ سرکاری اداروں) سے تصدیق لازمی کریں۔سوشل میڈیا پر ملنے والے غیر مصدقہ اور ضرورت سے زیادہ پرکشش وعدوں یا اشتہارات پر ہرگز اندھا اعتماد نہ کریں۔اگر آپ یا آپ کا کوئی جاننے والا اس طرح کی کسی فراڈ اسکیم کا شکار ہوا ہے تو فوری طور پر متعلقہ حکام کو رپورٹ کریں۔

