تحریر :اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید کی جانب سے وفاقی حکومت کو بھیجے گئے ایک مراسلے نے پنجاب پولیس کے اعلیٰ اور درمیانے درجے کے افسران کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ پنجاب کے آرام دہ اور پرکشش عہدوں پر تعیناتی کے خواہشمند افسران اب خیبر پختونخوا جیسے چیلنجنگ اور ‘ہارڈ ایریا’ میں تبادلے کے خدشات سے دوچار ہیں ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا پولیس نے وفاقی حکومت سے ڈی آئی جیز، ایس ایس پیز اور ایس پیز رینک کے افسران کی خدمات مانگ لی ہیں، جن میں چند خواتین پولیس افسران بھی شامل ہیں۔ عام طور پر پنجاب پولیس کے افسران صوبے کے اندر اہم، پرآسائش اور انتظامی لحاظ سے مضبوط سمجھنے جانے والے عہدوں پر تعیناتی کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ خیبر پختونخواہ کو سکیورٹی صورتحال اور کٹھن حالات کے باعث اکثر افسران ‘ہارڈ ایریا’ قرار دے کر وہاں جانے سے کتراتے ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد اب پنجاب کی من پسند اور پرکشش کرسیوں سے محرومی اور خیبر پختونخوا بھجوائے جانے کے خوف سے متعلقہ افسران میں شدید بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ ذرائع نے اس بات کا بھی انکشاف کیا ہے کہ تبادلے کی اس مجوزہ فہرست میں ایسے افسران بھی شامل ہیں جنہوں نے 9 مئی کے ہنگامہ خیز واقعات کے دوران فرنٹ لائن پر آ کر اہم کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ وفاقی حکومت سے حتمی منظوری ملنے کی صورت میں ان افسران کی خیبر پختونخوا روانگی کے احکامات جاری کر دیے جائیں گے، جس کے بعد پنجاب پولیس کے انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔
"آئی جی خیبر پختونخواذوالفقار حمید کے خط نے پنجاب پولیس کے افسران کی نیندیں اڑا دیں”


