سامارو (بیوروچیف ڈاکٹر ایم لال واگھانی):
ٹاؤن کمیٹی سامارو میں اختیارات کے مبینہ غلط استعمال، واٹر سپلائی انچارج سلطان خاصخیلی کے خلاف کرپشن کے الزامات اور صحافی کے ساتھ کشیدگی کے بعد تنازع نے شدت اختیار کرلی ہے۔ اس سنسنی خیز صورتحال نے پورے شہر کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے، جہاں ایک طرف صحافی اور دوسری طرف ٹاؤن کمیٹی کے ملازمین کھل کر آمنے سامنے آچکے ہیں۔تفصیلات کے مطابق، صحافی علی محمد شیدی نے ٹاؤن کمیٹی سامارو کے ترقیاتی کاموں، صفائی ستھرائی، پینے کے پانی کی فراہمی، فائر بریگیڈ، ٹریکٹر ٹرالی، پیٹرول و ڈیزل کی تقسیم اور کنٹیجنسی بلوں سمیت مختلف مالی و انتظامی امور پر سخت سوالات اٹھائے تھے۔ صحافی کا مؤقف ہے کہ وارڈ نمبر ایک اور ٹنکی پاڑے کی گلیوں میں پیور بلاکس نہ لگنے کے باوجود سلطان خاصخیلی کی گلی میں خصوصی طور پر پیور بلاکس لگائے گئے، جس پر انہوں نے تمام ریکارڈ کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔صحافی علی محمد شیدی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ خبریں سامنے آنے کے بعد ان پر دباؤ ڈالا گیا، سامارو تھانے میں ان کے خلاف جھگڑے کی درخواست دی گئی جسے پولیس نے مسترد کردیا، اور مبینہ طور پر صفائی عملے کو زبردستی ان کے خلاف احتجاج پر مجبور کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ احتجاج نہ کرنے کی صورت میں تنخواہیں بند کرنے کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔: دوسری جانب، ان الزامات کے ردعمل میں ٹاؤن کمیٹی سامارو کے ملازمین سڑکوں پر نکل آئے اور سلطان خاصخیلی کے حق میں ایک بڑی ریلی نکالی۔ مظاہرین نے نیشنل پریس کلب سامارو کے سامنے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا اور پلے کارڈز اٹھا کر نعرے بازی کی۔ملازمین کا الزام ہے کہ صحافی علی محمد شیدی سوشل میڈیا پر بے بنیاد الزامات لگا کر سلطان خاصخیلی کی کردار کشی کر رہے ہیں اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ مظاہرین نے اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، حقائق کو سامنے لایا جائے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ اس سنگین تنازع نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے:سلطان خاصخیلی کے خلاف لگائے جانے والے مالی اور ترقیاتی امور کے الزامات میں کتنی صداقت ہے؟صحافی کے خلاف صفائی عملے سے زبردستی احتجاج کرانے کے دعوؤں کی حقیقت کیا ہے؟کیا متعلقہ حکام اس معاملے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف انکوائری کر کے تمام فریقین کا مؤقف سامنے لائیں گے؟عوامی و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی فوری طور پر اعلیٰ سطح پر شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔


