ویب ڈیسک
پھیلتی ہوئی جنگی سنسنی اور تناؤ کے درمیان کورین جزیرہ نما ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ شمالی کوریا کے سربراہ کِم جونگ اُن کی بااثر اور طاقتور ہمشیرہ کِم یو جونگ نے براہِ راست سرحدی علاقوں کا دورہ کرکے خطے میں جاری کشیدگی کی آگ میں مزید تیل چھڑک دیا ہے۔ ان کے اس اچانک اور جارحانہ دورے نے دونوں ملکوں کے درمیان کسی بھی وقت بڑی عسکری جھڑپ کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق، کِم یو جونگ نے سرحدی پٹی پر موجود فوجی دستوں اور دفاعی تنصیبات کا معائنہ کیا اور جنوبی کوریا کی جانب سے جاری اشتعال انگیز کارروائیوں کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ کِم یو جونگ کا یہ قدم محض سفارتی دباؤ نہیں بلکہ کسی بڑے فوجی اقدام کی پیش خیمہ ہو سکتا ہےدوسری جانب، جنوبی کوریا کی افواج نے بھی شمالی کوریا کی اس نقل و حرکت پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنی دفاعی تیاریوں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی سرحدوں پر ٹینکرز، میزائل سسٹمز اور فوجیوں کی اضافی تعیناتی کی اطلاعات نے خطے کے امن کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری نے دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے، تاہم زمینی حقائق یہی بتا رہے ہیں کہ کوریا کا خطہ اس وقت بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہے۔

