تل ابیب (ویب ڈیسک): اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کے امکان کو کھلا رکھتے ہوئے ایرانی حکومت کو "کینسر” سے تشبیہ دی ہے۔
i24News عبرانی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نیتن یاہو نے تہران کے خلاف اپنی حکومت کی کامیابیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایرانی حکومت کا خاتمہ نہ کیا گیا تو یہ خطرہ دوبارہ سر اٹھا لے گا۔ نیتن یاہو نے دعویٰ کیا، "ہم نے 90 فیصد کام مکمل کر لیا ہے، لیکن آپ جانتے ہیں کہ یہ کینسر کی طرح ہے۔ اگر آپ ایران میں اس حکومت سے جان نہیں چھڑائیں گے تو یہ واپس آئے گا۔
انٹرویو کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم نے الزام عائد کیا کہ ایران، حز اللہ اور حماس اسرائیل کے آنے والے 27 اکتوبر کے انتخابات میں اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل میں ایسے شواہد سامنے آرہے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف "سیکیورٹی انسی ڈینٹس’’ پیدا کر کے انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ نیتن یاہو نے اپنے مخالفین اور دشمنوں کے عزم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "وہ سب ایک ہی بات کہتے ہیں: نیتن یاہو کو ہارنا چاہیے۔”
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے غزہ کے مستقبل اور اپنے عزائم سے متعلق سخت موقف اپناتے ہوئے ایک بار پھر اعلان کیا ہے کہ غزہ میں حماس کا مکمل خاتمہ اور اسے غیر مسلح کیا جانا ناگزیر ہے۔ نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ یہ ہدف ہر صورت حاصل کیا جائے گا، چاہے اس کے لیے کوئی بھی راستہ اختیار کرنا پڑے۔ ایک بیان میں اپنے جارحانہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نے کہا: "حماس کا خاتمہ اور اسے غیر مسلح کرنا ہو گا… چاہے یہ آسان طریقے سے ہو یا مشکل طریقے سے
"ایران کینسر کی طرح ہے، جڑ سے ختم نہ ہوا تو واپس آئے گا” آسان یامشکل، حماس کا خاتمہ ناگزیر: بنجمن نیتن یاہو

