پیرس (نیوز ڈیسک)فرانس میں اسکول طلبہ کی حمایت، مہنگائی اور سماجی ناانصافیوں کے خلاف جاری احتجاجی تحاریک اچانک انتہائی پرتشدد صورتحال اختیار کر گئی ہیں۔ ہفتے کے روز ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان شددید جھڑپیں ہوئیں، جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے ایک ہی دن میں 1,200 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
فرانسیسی وزیرِ اعظم سیبسٹین لیکورنو (Sébastien Lecornu) نے تصدیق کی ہے کہ ملک بھر میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات اور توڑ پھوڑ کے دوران 150 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ فرانسیسی وزارتِ داخلہ کے مطابق مظاہروں میں تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار افراد نے شرکت کی، جبکہ مزدور یونینوں کے مطابق مظاہرین کی تعداد 8 لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی۔
ہفتے کو پیش آنے والے سب سے سنگین واقعے میں فرانس کے شہر لیموژ (Limoges) میں مظاہرین نے 143 سالہ قدیم تاریخی سٹی ہال (ٹاؤن ہال) کو آگ لگا دی۔
علاقائی حکام (پریفیکٹ) موریس باریٹ کے مطابق، آگ اتنی شدید تھی کہ عمارت کی چھت نچلی منزلوں پر آن گری اور دو تہائی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی، جسے انہوں نے "قومی اور ثقافتی ورثے کے لیے ایک بڑا سانحہ” قرار دیا۔
فرانس کے دوسرے بڑے شہر مارسیل میں مظاہرین نے سٹی ہال کا مرکزی دروازہ توڑ کر عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی اور دیواروں پر اینارکی (انارکی) کے نشانات اسپرے کر دیے۔
’’جب پیرس میدان جنگ بن گیا’’
دارالحکومت پیرس کے مرکزی مقام پلیس ڈی لا ریپبلک (Place de la République) اور اردگرد کی شاہراہوں پر پُرامن مارچ اس وقت تشدد کا شکار ہوا جب سیاہ لباس اور نقاب پوش شدت پسند گروہ (Casseurs) مظاہروں میں شامل ہو گئے۔
مظاہرین نے پٹاخے، فائر ورکس اور سڑک کے پتھر پولیس اہلکاروں پر برسائے اور گاڑیوں، کچرے کے ڈبوں اور ٹرک کو آگ لگا دی، جس کا دھواں اور آنسو گیس قریبی عمارتوں تک پھیل گئی۔
بلوارڈ میجنٹا پر درجنوں لگژری برانڈز جن میں لا کوسٹ (Lacoste)، موبائل فون شاپس اور گیلریز لافایٹ جیسے معروف ڈپارٹمنٹل اسٹورز شامل ہیں، کے شیشے توڑ کر لوٹ مار کی گئی۔
فرانسیسی وزیرِ داخلہ لورینٹ نونیزی (Laurent Nuñez) نے تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ "یہ موقع پرست مجرم تھے جنہوں نے لوٹ مار کی خاطر پُرامن مظاہروں کا سہارا لیا۔ ہم ان سے سختی سے نمٹیں گے۔” تاہم، انہوں نے فی الحال ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا امکان مسترد کر دیا ہے۔
یہ مظاہرے گزشتہ ماہ پیرس کے غریب شمالی اضلاع کے اسکولوں سے شروع ہوئے تھے جہاں اساتذہ کی کمی اور ناقص سہولیات کے خلاف غصہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑی ملک گیر تحریک میں بدل گیا۔ سوشل میڈیا پر 2018ء کی مشہور ’یلو ویسٹ‘ (Gilet Jaunes) تحریک کو دوبارہ زندہ کرنے کی اپیلوں نے کسانوں، پینشنرز، مزدوروں اور طالب علموں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا ہے۔
تازہ ترین سروے کے مطابق 45 فیصد سے زائد فرانسیسی عوام مہنگائی اور زندگی کے بھاری اخراجات پر شدید تشویش کا شکار ہیں۔ دوسری جانب سیاسی میدان میں اپوزیشن لیڈر جاں لک میلانچون (Jean-Luc Mélenchon) نے طالب علموں کے مطالبات کی حمایت کی ہے لیکن لوٹ مار کے واقعات سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔

