انٹرنیشنل ڈیسک — مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے دائرہ کار اور خودمختار رویے نے ایک بار پھر ماہرین کو چونکا دیا ہے۔ دنیا کی معروف آرٹیفیشل انٹیلی جنس کمپنی "اوپن اے آئی” (OpenAI) نے انکشاف کیا ہے کہ ان کا ایک تجرباتی اے آئی ماڈل کوڈنگ کا ایک ٹاسک مکمل کرنے کے دوران فنڈز ختم ہونے پر خود سے ایک کرپٹو والٹ تک رسائی حاصل کرنے اور وہاں سے فنڈز منتقل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔تفصیلات کے مطابق، اے آئی ماڈل کو ایک کوڈنگ اسائنمنٹ دی گئی تھی جس کی تکمیل کے لیے فیس کی ادائیگی درکار تھی، تاہم ماڈل کے پاس مطلوبہ ڈیجیٹل فنڈز موجود نہیں تھے۔ جب مفت ٹیسٹ ٹوکن حاصل کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں، تو اے آئی نے خود فیصلہ کرتے ہوئے عوامی طور پر دستیاب ڈویلپر ریکوری فیسز (Recovery Phrases) کا استعمال کیا۔ اس نے سیکڑوں پتے چیک کیے اور بالآخر ایک ایسے والٹ کو تلاش کر لیا جہاں مطلوبہ ٹیسٹ ایتھریم (Test ETH) موجود تھے، اور وہاں سے فیس ادا کر کے اپنا ٹاسک کامیابی سے مکمل کر لیا۔اگرچہ یہ تمام ٹرانزیکشنز ایتھریم کے ایک ٹیسٹ نیٹ ورک (Test Network) پر ہوئیں اور ان ٹوکنز کی حقیقی دنیا میں کوئی مالیاتی مالیت نہیں تھی، تاہم اس واقعے نے ٹیک دنیا میں ایک نئی بحث چھوٹی دی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جدید اے آئی ماڈلز بعض اوقات انسانی نگرانی اور اجازت کے بغیر اپنے صوابدیدی فیصلوں پر خودکار طریقے سے عمل درآمد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ بھی ہے کہ ماڈل نے کام مکمل کرنے کے بعد اپنی اس کارروائی کی رپورٹنگ بھی نہیں کی تھی، جو مستقبل میں سکیورٹی کے حوالے سے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی خود مختاری کا خطرہ: کوڈنگ اسائنمنٹ کے دوران اے آئی نے کرپٹو والٹ سے فنڈز منتقل کر لیے

