عمرکوٹ (بیورو رپورٹ: ڈاکٹر ایم لال واگھانی)
سامارو ٹاؤن کمیٹی کے تالابوں کی مرمت اور نکاسی آب کے نام پر کروڑوں روپے کے فنڈز کے مبینہ گھپلے کا نیا اسکینڈل سامنے آیا ہے۔ تالابوں سے نکالی گئی لاکھوں روپے مالیت کی مٹی مبینہ طور پر فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق سامارو ٹاؤن کمیٹی کے تالابوں پر تعینات عملے کی مبینہ ملی بھگت سے ٹھیکیدار کی جانب سے نکالی جانے والی مٹی کو فی ٹرالی 1200 سے 1500 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے، اور اب تک مٹی کی سینکڑوں ٹرالیاں مبینہ طور پر فروخت کی جا چکی ہیں۔اس سنگین معاملے پر عوامی اور سماجی حلقوں کی جانب سے مندرجہ ذیل اہم سوالات اٹھائے جا رہے ہیں:اگر مٹی سرکاری تالابوں سے نکالی گئی تو اس کی فروخت کس کی اجازت کے تحت کی گئی؟کیا اس حوالے سے کوئی باضابطہ ٹینڈر جاری کیا گیا تھا یا نہیں؟مٹی کی فروخت سے حاصل ہونے والی لاکھوں روپے کی خطیر رقم سرکاری خزانے میں جمع ہوئی یا متعلقہ مافیا کی جیب میں چلی گئی؟دوسری جانب، ٹاؤن کمیٹی کی انتظامیہ نے اس پورے معاملے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں اور سائلین نے اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، شفاف تحقیقات کرکے سرکاری وسائل کے بے دریغ استعمال اور مٹی کی فروخت کا مکمل ریکارڈ سامنے لایا جائے تاکہ ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔


