ماسکو/کیف:
روس اور یوکرین کے درمیان جاری طویل اور خونی جنگ میں غداری کا ایک انتہائی ہولناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں روسی فوج کا ایک اعلیٰ افسر مبینہ طور پر دشمن سے جا ملا اور اپنے ہی ملک کے 300 فوجیوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا۔عسکری ذرائع اور رپورٹس کے مطابق، روسی فوج میں اہم ذمے داری نبھانے والے اس افسر نے مبینہ طور پر یوکرین کی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر لیا تھا۔ محاذِ جنگ پر فرائض کی انجام دہی کے دوران اس نے اپنے دستے کے تقریباً 300 روسی فوجیوں کو ایک ایسی پوزیشن پر تعینات کرنے کا حکم دیا جو یوکرینی فورسز کے لیے انتہائی آسان ہدف تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس افسر نے دانستہ طور پر اپنے فوجیوں کی نقل و حرکت اور حساس لوکیشن کی تمام معلومات یوکرین کو فراہم کیں، جس کے بعد یوکرینی فورسز نے شدید گولہ باری کرکے ان تمام فوجیوں کو ہلاک کر دیا۔ حملے کے وقت ان بدقسمت فوجیوں کو اپنے ہی افسر کے اس گھناؤنے دھوکے کا ذرا برابر بھی اندازہ نہیں تھا۔اپنے ہی سینکڑوں ساتھیوں کی ہلاکت کا سبب بننے کے بعد اس افسر نے روس کے خلاف باقاعدہ بغاوت کا اعلان کیا اور فرار ہو کر یوکرین کے زیرِ تسلط علاقے میں پناہ لے لی۔ یوکرینی حکام کی جانب سے فراہم کردہ انٹیلی جنس معلومات کے بدلے اسے اب باقاعدہ طور پر یوکرینی فورسز کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔اس واقعے کے بعد روسی عسکری اور دفاعی حلقوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تاریخ کے بدترین غداری کے واقعات میں سے ایک ہے، جو جنگ کے دوران اندرونی سکیورٹی اور فوجیوں کے باہمی اعتماد کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔

