سکھر (رپورٹ/ عبد الرحمان راجپوت)
پرانے سکھر کے رہائشی اور نجی بسکٹ فیکٹری کے سابق پیکنگ آپریٹر محمد کاشف نے مبینہ ناانصافی کے خلاف فریاد کرتے ہوئے فیکٹری انتظامیہ سے فوری انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔متاثرہ ملازم محمد کاشف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اپنی زندگی کے 23 سال انتہائی دی ایمانداری اور محنت کے ساتھ اس فیکٹری میں خدمات انجام دیتے ہوئے گزارے، تاہم گزشتہ چار ماہ سے انہیں فیکٹری میں داخل ہونے اور ڈیوٹی پر حاضر ہونے سے بلاجواز روکا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کے باعث ان کے لیے اپنے معصوم چھوٹے بچوں سمیت پورے اہلِ خانہ کی کفالت کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔محمد کاشف کے مطابق، ابتدا میں انتظامیہ نے انہیں یہ کہہ کر چھٹی کرنے کا کہا کہ پیکنگ لائن بند ہے، لیکن جب وہ مقررہ وقت کے بعد دوبارہ فیکٹری پہنچے تو انہیں اندر جانے اور ڈیوٹی پر بحال کرنے سے صاف انکار کر دیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وہ گزشتہ چار ماہ سے مسلسل فیکٹری کے گیٹ کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں، مگر انتظامیہ کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔متاثرہ ملازم نے اعلیٰ حکام، محنت کشوں کے حقوق کے اداروں اور فیکٹری مالکان سے پرزور اپیل کی ہے کہ ان کے 23 سالہ خلوصِ نیت اور روزگار کا نوٹس لیا جائے اور انہیں فوری طور پر ڈیوٹی پر بحال کر کے انصاف فراہم کیا جائے۔

