سکھر (رپورٹ: عبد الرحمان راجپوت)
سیپکو ملازمین کی برطرفی کے معاملے پر ہائیڈرو لیبر یونین کے رہنماؤں نے سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) انجینئر اعجاز احمد چنہ سے ملاقات کی، جس میں برطرف ملازمین کی بحالی کے واحد نکتے (ون پوائنٹ ایجنڈے) پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں ہائیڈرو لیبر یونین کے مرکزی رہنماؤں عبداللطیف نظامانی، نثار احمد شیخ، حاجی خلیل احمد ڈومکی، شجاع گھمرو اور دیگر نے شرکت کی۔ ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے عبداللطیف نظامانی نے کہا کہ ملازمین کو غلط طریقے سے برطرف کیا گیا ہے، تاہم سی ای او سیپکو کے ساتھ ملاقات انتہائی خوشگوار اور مثبت رہی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد ایک ماہ کے اندر برطرف ملازمین کو بحال کر دیا جائے گا۔عبداللطیف نظامانی کا مزید کہنا تھا کہ مزدوروں کے مسائل احتجاج کے بجائے مذاکرات کے ذریعے بھی احسن طریقے سے حل کیے جا سکتے ہیں، اس لیے افہام و تفہیم کے راستے کو اپنانا چاہیے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ یونین مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور ان کے مسائل کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ سیپکو کی نجکاری سے متعلق سوال پر انہوں نے تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے قبل از وقت کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ ملک کے کئی دیگر اداروں کی بھی نجکاری کی جا چکی ہے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ہائیڈرو لیبر یونین کے رہنما نثار احمد شیخ نے بتایا کہ کندھ کوٹ میں ملازمین کی برطرفی کے معاملے پر متعلقہ انجینئر کو معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ سکھر میں ایک لائن مین کی بحالی بھی اگلے ایک دو روز میں متوقع ہے۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ متعلقہ حکام کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے، ملازمین کے خدشات دور ہوں گے اور انہیں ریلیف ملے گا۔

