نئی دہلی/واشنگٹن:
بھارت میں ووٹر لسٹوں سے مبینہ طور پر 13 کروڑ سے زائد شہریوں کے نام خارج کرنے اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف ملک بھر میں پھوٹنے والے شدید احتجاج پر مودی سرکار کی طرف سے کیے جانے والے جابرانہ کریک ڈاؤن کے بعد بھارتی حکومت کو عالمی سطح پر بدترین اخلاقی اور سفارتی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سمیت مختلف ریاستوں میں اپوزیشن جماعتوں، سول سوسائٹی اور ہزاروں شہریوں نے مودی حکومت کیہ امتیازی پالیسیوں کے خلاف پُرامن مظاہرے کیے تھے۔ تاہم، مودی سرکار نے جمہوری اقدار کا پاس رکھنے کے بجائے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا۔ سیکورٹی فورسز نے شوبازیوں اور کریک ڈاؤن کے دوران ہزاروں سیاسی کارکنوں اور عام شہریوں کو بلاجواز حراست میں لے لیا جبکہ احتجاجیمراکز پر مواصلاتی نظام اور انٹرنیٹ سروسز معطل کر کے بنیادی انسانی حقوق کو سلب کیا گیا۔بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی سرکردہ تنظیموں (جیسے ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل) نے نئی دہلی حکومت کے اس غیر جمہوری رویے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے اقلیتوں اور اپوزیشن کے بنیادی حقوق پر بدترین قدغن قرار دیا ہے۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ پُرامن احتجاج کرنے والوں پر اس قسم کے ریاستی تشدد نے دنیا بھر میں نام نہاد "بھارتی جمہوریت” کے دعوؤں کو بے نقاب کر کے رکھ دیا ہے اور موجودہ حکمران جماعت کو بین الاقوامی برادری میں شدید سفارتی تنہائی اور ہزیمت سے دوچار کر دیا ہے۔

