میڈرڈ:سپین کے سوشلسٹ وزیراعظم پیدرو سانچیز (Pedro Sánchez) نے ملک میں شدت اختیار کرتے ہوئے ہاؤسنگ بحران اور اپوزیشن کی جانب سے ہنگامی قانون سازی کو سبوتاژ کیے جانے کے بعد ایک بار پھر اپنا سیاسی مستقبل داؤ پر لگاتے ہوئے قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان کر دیا ہے۔
وزیراعظم نے پیر کی صبح اعلان کیا کہ ملک میں نئے عام انتخابات آئندہ ماہ 29 نومبر کو منعقد ہوں گے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے اپنی حکومت کے سماجی، ماحولیاتی اور انسانی حقوق کے ریکارڈ کا دفاع کیا اور اعتراف کیا کہ حکومت سے کچھ غلطیاں بھی ہوئیں، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ حتمی فیصلہ سپین کے عوام کے ہاتھ میں سونپ دیا جائے۔
وزیراعظم سانچیز کی مشکلات میں اس وقت شدت آئی جب دائیں بازو کی جماعتوں نے حکومت کی جانب سے ہاؤسنگ بحران سے نمٹنے کے لیے لائی گئی ہنگامی قانون سازی کو کانگریس میں مسترد کر دیا۔ ان دو ڈیکریوں میں کرایوں کے عارضی کنٹرول سے لے کر 2030 تک جبری بے دخلیوں پر پابندی جیسے سخت اقدامات شامل تھے، جنہیں جمعہ کے روز قدامت پسند پیپلز پارٹی (PP)، انتہائی دائیں بازو کی ووکس پارٹی (Vox) اور کیٹالان کی ایک قوم پرست جماعت نے ووٹ دے کر گرا دیا۔
سپین میں کرایوں کی آسمان چھوتی قیمتوں اور ناقص پالیسیوں کے خلاف طویل عرصے سے پایا جانے والا غصہ اس وقت سڑکوں پر پھوٹ پڑا جب میڈرڈ میں 87 سالہ ماریکارمین اباسکل نامی بوڑھی خاتون کو ان کے اس گھر سے زبردستی نکال دیا گیا جہاں وہ 70 سال سے رہ رہی تھیں، کیونکہ وہ سرمایہ کاری فنڈ کی جانب سے کرائے میں 230 فیصد اضافہ ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتی تھیں۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں دسیوں ہزار افراد سڑکوں پر نکل آئے اور میڈرڈ کے تاریخی Puerta del Sol) اسکوائر سمیت ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اقلیتی مخلوط حکومت چلانے والے سانچیز کا یہ فیصلہ انتہائی نپی تلی سیاسی چال ہے تاکہ ہاؤسنگ بحران اور دائیں بازو کی جماعتوں کے خلاف عوامی غصے کو اپنے حق میں استعمال کیا جا سکے۔ دوسری جانب اپوزیشن پیپلز پارٹی کے رہنما البرٹو نونیز فیجو (Alberto Núñez Feijóo) نے قبل از وقت انتخابات کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب آخر کار سپین کے عوام خود فیصلہ کریں گے۔
واضح رہے کہ وزیراعظم پیدرو سانچیز کی حکومت کو گزشتہ دو سالوں سے کرپشن کے الزامات، سیلٹا کی سرحد پر مہاجرین کے ہجوم اور ان کے خاندان کے افراد (بشمول ان کی اہلیہ بیگوگنا گومز اور بھائی ڈیوڈ سانچیز) کے خلاف مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات جیسے سنگین چیلنجز کا بھی سامنا رہا ہے، جنہیں سانچیز نے ہمیشہ سیاسی انتقام اور ہراسانی قرار دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 29 نومبر کے انتخابات سپین کی سیاست کا رخ کس سمت موڑتے ہیں۔
اسپین ، جہاں ایک 87 سالہ خاتون کی دربدری نے وزیراعظم سانچیز کو نئے انتخابات کرانے پر مجبور کردیا

