Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      چین کو چیلنج :پینٹاگون کا سکستھ جنریشن کے اسٹیلتھ جنگی طیارے F/A-XXکیلئے بوئنگ سے تاریخی معاہدہ

      صدر ٹرمپ آئی ٹی سیکٹر کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں? مصنوعی ذہانت کا نام بدل کر ’ایس آئی‘ رکھنے کا اعلان،, وائٹ ہاؤس میں ٹیک ٹائیکونز کا اکٹھ

      میٹا نے شروع کیا انٹرپرائز پلیٹ فارم، کمپنیوں کو اے آئی سے آگے بڑھانے پر رہے گا فوکس

      اے آئی ٹیکنالوجی انسانی وجود کے لیے خطرہ: سیکیورٹی ریسرچ کمپنی ‘انتھروپک’ کا سنسنی خیز دعویٰ

      ’ستھرا پنجاب‘ پروگرام: قصور، فیصل آباد اور اوکاڑا کے ایم ڈی کارکردگی بہتر نہ ہونے پر ہٹا دیے گئے، وزیراعلیٰ مریم نواز کا سخت نوٹس

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    "وزیر اعلیٰ پنجاب کے وژن کو پولیس کی کالی بھیڑوں کا دھچکا”

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر :اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    پنجاب میں گڈ گورننس کے دعوؤں اور وزیر اعلیٰ مریم نواز کے ‘سیف پنجاب’ وژ ن کو سب سے بڑا دھچکا خود محکمہ پولیس کی کالی بھیڑوں کی جانب سے لگ رہا ہے۔ پولیس کی کمان کتنی ہی پروفیشنل یا سخت کیوں نہ ہو، تھانہ کلچر اور کالی بھیڑوں نے کرپشن اور جرائم کی سرپرستی کا نیا فارمولا طے کر لیا ہے۔ انتظامی اصلاحات کے تمام دعوے اس وقت دم توڑ جاتے ہیں جب محافظ ہی ڈاکوؤں اور منشیات فروشوں کے سہولت کار بن کر سامنے آتے ہیں۔ نچلی سطح پر پھیلی اس دلمل اور کرپشن کی سائنس نے حکومت کی تمام کارکردگی پر بدبو دار پانی پھیر دیا ہے۔
    کمالیہ میں ایس ایچ او نے خاتون کو جوتا مارا سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے پر آئی جی کے حکم پر ایس ایچ او گرفتار ہوا۔منشیات کی روک تھام اور اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے پولیس کے دعوے محض پریس کانفرنسوں اور نمائش تک محدود ہو چکے ہیں۔ جب کوئی ملزم یا سمگلر ناکے پر پکڑا جاتا ہے تو فوراً کریڈٹ اعلیٰ افسران کو دے کر داد سمیٹی جاتی ہے، لیکن دوسری جانب ہزاروں مقدمات اور تفتیش زیر التوا پڑی دھول چاٹ رہی ہیں۔ صوبے کو جرائم سے پاک کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان زیر تفتیش مقدمات کا منطقی انجام تک پہنچایا جائے، تمام اشتہاریوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور سزا کا نظام مضبوط کیا جائے تاکہ انصاف کا واقعی بول بالا ہو سکے۔ ایس ایچ او تعینات کرنے والی اتھارٹی سی پی او ڈی آئی جی اور ڈی پی اوز کو چاہئے کہ نئے تعینات کرنے والے ایس ایچ او کا انسپکٹر اسٹیبلشمنٹ سے ریکارڈ نہ چیک کیا جائے اس سے باپ دادا کے بعد اسکے اثاثوں کا ریکارڈ بھی حاصل کیا جائے تاکہ علم ہوا کہ پوسٹنگ کے بعد اسکی حالت کیسے بدل گئی تاہم سیاسی دباو پر فوری پوسٹنگ نہ دی جائے لاہور کا ایک سب انسپکٹر پہلی تعیناتی پر موٹر سائیکل پر تھانے آیا تو سب حیران ہوئے لیکن جلد ہی اس نے نئی کار لے لی تو ماتحت پریشان بھی ہو گئے کہ موٹر سائیکل کی اتنی سپیڈ نہیں جتنی ایس ایچ او کی سپیڈ ہےاب لاہور میں اسکی دوسری پوسٹنگ ہے لیکن اسکا رہن سہن اور طور طریقے ہی بدل گئے اس نے اپنے افسر کو قابو کر رکھا ہے شائد ہی اسکو کوئی بدل پائے۔
    تھانوں کی سطح پر ہونی والی خلاف ورزیوں اور کرپشن کی سب سے بڑی وجہ ناقص سپروائزری نظام ہے۔ جب کوئی اہلکار یا افسر جرم میں ملوث پایا جاتا ہے تو تمام تر ملبہ صرف اسی نچلے اہلکار پر ڈال کر جان چھڑا لی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تھانے کے تمام تر نظام، نجی کارخاص اور علاقے کے دیگر معاملات سے سپروائزری افسران مکمل باخبر ہوتے ہیں۔ اگر وہ لاعلم ہیں تو یہ ان کی شدید نااہلی ہے اور اگر باخبر ہیں تو وہ بھی اس جرم کے برابر کے شریک سمجھے جانے چاہئیں۔ جب تک سپروائزری افسران کی جواب دہی طے نہیں ہوگی، تھانوں میں قائم غیر قانونی دباؤ اور کرپشن کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ لاہور پولیس کی سخت اور پروفیشنل کمان کے باوجود ہارڈ کریمنلز اور منشیات فروشوں کی سرپرستی کے شواہد مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔ حال ہی میں باٹا پور میں سامنے آنے والا واقعہ اس تلخ حقیقت کا ثبوت ہے جہاں سب انسپکٹر اور اہلکاروں نے منشیات فروش کو بھاری رشوت لے کر رہا کیا اور اس کے کارندوں کو نجی ٹارچر سیل میں یرغمال بنا کر 15 لاکھ روپے رشوت کا مطالبہ کیا۔ 10 لاکھ پر ڈیل میں ڈیڈ لاک پیدا ہوا، اور قدرت کی بے آواز لاٹھی سے یہ بھانڈا چوراہے میں پھوٹ گیا۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے واقعے کا بروقت نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او کو معطل، اور ملوث سب انسپکٹر و اہلکاروں پر مقدمہ درج کرا کے حوالات میں بند کرایا، جو کہ ایک خوش آئند اقدام ہے۔ اس کارروائی کے دوران نظام کی مزید دراڑیں بھی کھل کر سامنے آئیں۔ جب ڈی آئی جی کی ہدایت پر غیر قانونی طور پر محبوس افراد کو بازیاب کرانے کے لیے چھاپے کا حکم دیا گیا تو ایس ایچ او باٹا پور کو پولیس کے اندر سے ہی اتنی تیزی سے اطلاع ملی کہ اس نے ٹارچر سیل سے بندوں کو فوری منتقل کر دیا۔ یہ راز فاش ہونا ثابت کرتا ہے کہ محکمہ پولیس میں محکماتی رازداری کو کس طرح پامال کیا جا رہا ہے۔
    اس قسم کے مخبر اور سیکریسی لیک کرنے والے افسران بھی اتنی ہی سخت سزا کے مستحق ہیں جتنے کہ وہ رشوت خور اہلکار۔ تھانہ کلچر کی تلخ سچائی یہ ہے کہ علاقے میں کوئی بھی بڑا جرم یا غیر قانونی سرگرمی ایس ایچ او یا اس کی ‘کارخاص’ ٹیم کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں۔ معاملات بگڑنے پر سارا ملبہ ماتحت اہلکاروں پر ڈال کر اصل بااثر کردار صاف بچ نکلتے ہیں۔ پولیس اہلکاروں کی جانب سے یہ توجیہ پیش کی جاتی ہے کہ سرکاری گاڑیوں کے ایندھن، چھاپوں دفاتر اور مہمان داری کے اخراجات اس قدر زیادہ ہیں کہ تنخواہ ایک ہی دن میں ختم ہو جاتی ہے۔ مگر اخراجات کا بہانا بنا کر کرپشن، نجی ٹارچر سیلوں اور منشیات فروشوں کی سرپرستی کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جب تک اس جڑ سے فاسد نظام اور اس کے سہولت کاروں پر بنا تفریق کڑا احتساب نہیں ہوگا، تب تک پنجاب کو جرائم سے پاک کرنے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

    Related Posts

    ہندو انتہا پسند حکومت نے چھ سو سال پرانی شاہی مسجد کا مینار گرادیا

    جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔۔۔ زہر کے دو ٹیکوں کے باوجود قتل کی مجرم زندہ

    بھارت دہشت گردوں کا سب سے بڑا سپانسر، 29 ستمبر کو کشمیر میں فالس فلیگ آپریشن کیا، ترجمان پاک فوج

    مقبول خبریں

    ہندو انتہا پسند حکومت نے چھ سو سال پرانی شاہی مسجد کا مینار گرادیا

    جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔۔۔ زہر کے دو ٹیکوں کے باوجود قتل کی مجرم زندہ

    بھارت دہشت گردوں کا سب سے بڑا سپانسر، 29 ستمبر کو کشمیر میں فالس فلیگ آپریشن کیا، ترجمان پاک فوج

    مہنگائی کی شرح میں معمولی کمی، ادارہ شماریات

    لالیاں: دیرینہ دشمنی پر کار سواروں کی فائرنگ، موٹر سائیکل سوار 2 افراد ق ت ل، مقدمہ درج

    بلاگ

    گورنر راج، ایمرجنسی اور آرٹیکل 234: خیبر پختونخوا کے بارے میں پھیلنے والی آئینی غلط فہمیاں

    "وزیر اعلیٰ پنجاب کے وژن کو پولیس کی کالی بھیڑوں کا دھچکا”

    "نیا سیاسی کھیل”میاں حبیب کا کالم

    یمن میں 22 لاکھ سے زائد بچوں کاشدید غذائی قلت سے متاثر ہونے کا خدشہ

    حکومت نہیں، فرسودہ نظام کی تبدیلی کی ضرورت

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.