تحریر :اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
پنجاب میں گڈ گورننس کے دعوؤں اور وزیر اعلیٰ مریم نواز کے ‘سیف پنجاب’ وژ ن کو سب سے بڑا دھچکا خود محکمہ پولیس کی کالی بھیڑوں کی جانب سے لگ رہا ہے۔ پولیس کی کمان کتنی ہی پروفیشنل یا سخت کیوں نہ ہو، تھانہ کلچر اور کالی بھیڑوں نے کرپشن اور جرائم کی سرپرستی کا نیا فارمولا طے کر لیا ہے۔ انتظامی اصلاحات کے تمام دعوے اس وقت دم توڑ جاتے ہیں جب محافظ ہی ڈاکوؤں اور منشیات فروشوں کے سہولت کار بن کر سامنے آتے ہیں۔ نچلی سطح پر پھیلی اس دلمل اور کرپشن کی سائنس نے حکومت کی تمام کارکردگی پر بدبو دار پانی پھیر دیا ہے۔
کمالیہ میں ایس ایچ او نے خاتون کو جوتا مارا سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے پر آئی جی کے حکم پر ایس ایچ او گرفتار ہوا۔منشیات کی روک تھام اور اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے پولیس کے دعوے محض پریس کانفرنسوں اور نمائش تک محدود ہو چکے ہیں۔ جب کوئی ملزم یا سمگلر ناکے پر پکڑا جاتا ہے تو فوراً کریڈٹ اعلیٰ افسران کو دے کر داد سمیٹی جاتی ہے، لیکن دوسری جانب ہزاروں مقدمات اور تفتیش زیر التوا پڑی دھول چاٹ رہی ہیں۔ صوبے کو جرائم سے پاک کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان زیر تفتیش مقدمات کا منطقی انجام تک پہنچایا جائے، تمام اشتہاریوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور سزا کا نظام مضبوط کیا جائے تاکہ انصاف کا واقعی بول بالا ہو سکے۔ ایس ایچ او تعینات کرنے والی اتھارٹی سی پی او ڈی آئی جی اور ڈی پی اوز کو چاہئے کہ نئے تعینات کرنے والے ایس ایچ او کا انسپکٹر اسٹیبلشمنٹ سے ریکارڈ نہ چیک کیا جائے اس سے باپ دادا کے بعد اسکے اثاثوں کا ریکارڈ بھی حاصل کیا جائے تاکہ علم ہوا کہ پوسٹنگ کے بعد اسکی حالت کیسے بدل گئی تاہم سیاسی دباو پر فوری پوسٹنگ نہ دی جائے لاہور کا ایک سب انسپکٹر پہلی تعیناتی پر موٹر سائیکل پر تھانے آیا تو سب حیران ہوئے لیکن جلد ہی اس نے نئی کار لے لی تو ماتحت پریشان بھی ہو گئے کہ موٹر سائیکل کی اتنی سپیڈ نہیں جتنی ایس ایچ او کی سپیڈ ہےاب لاہور میں اسکی دوسری پوسٹنگ ہے لیکن اسکا رہن سہن اور طور طریقے ہی بدل گئے اس نے اپنے افسر کو قابو کر رکھا ہے شائد ہی اسکو کوئی بدل پائے۔

اس قسم کے مخبر اور سیکریسی لیک کرنے والے افسران بھی اتنی ہی سخت سزا کے مستحق ہیں جتنے کہ وہ رشوت خور اہلکار۔ تھانہ کلچر کی تلخ سچائی یہ ہے کہ علاقے میں کوئی بھی بڑا جرم یا غیر قانونی سرگرمی ایس ایچ او یا اس کی ‘کارخاص’ ٹیم کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں۔ معاملات بگڑنے پر سارا ملبہ ماتحت اہلکاروں پر ڈال کر اصل بااثر کردار صاف بچ نکلتے ہیں۔ پولیس اہلکاروں کی جانب سے یہ توجیہ پیش کی جاتی ہے کہ سرکاری گاڑیوں کے ایندھن، چھاپوں دفاتر اور مہمان داری کے اخراجات اس قدر زیادہ ہیں کہ تنخواہ ایک ہی دن میں ختم ہو جاتی ہے۔ مگر اخراجات کا بہانا بنا کر کرپشن، نجی ٹارچر سیلوں اور منشیات فروشوں کی سرپرستی کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جب تک اس جڑ سے فاسد نظام اور اس کے سہولت کاروں پر بنا تفریق کڑا احتساب نہیں ہوگا، تب تک پنجاب کو جرائم سے پاک کرنے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔


