جنیوا / واشنگٹن:ایران سے متعلق حقائق کا پتہ لگانے والے اقوام متحدہ کے مشن نے ایک انتہائی سنگین رپورٹ جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ رواں سال فروری میں ایران میں ایک پرائمری اسکول اور کھیلوں کے مقام پر ہونے والے تباہ کن فوجی حملوں کے پیچھے امریکؒا کا ہاتھ تھا۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس بات کے پختہ شواہد اور معقول بنیادیں موجود ہیں کہ یہ کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کے تحت صریحاً "جنگی جرائم” کے زمرے میں آتی ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رئٹرز‘ کے مطابق، یہ رپورٹ جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پیش کی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی افواج ایران کے شہر میناب میں واقع ’شجرہ طیبہ پرائمری اسکول‘ پر ہونے والے ہولناک حملے کی ذمہ دار ہیں، جہاں ایرانی حکام کے مطابق 150 سے زائد معصوم افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، جن میں تقریباً 120 کمسن بچے بھی شامل تھے۔
اقوام متحدہ کے مشن نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ بین الاقوامی انسانی قانون سخت ترین الفاظ میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے سے منع کرتا ہے اور فوجی و غیر فوجی اہداف میں واضح امتیاز برتنے کا حکم دیتا ہے۔ مشن کا یہ نتیجہ ہے کہ میناب کے پرائمری اسکول کو ہدف بناتے وقت امریکا یہ تصدیق کرنے کی اپنی بنیادی ذمہ داری پوری کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا کہ آیا وہ عمارت کوئی فوجی ہدف بھی تھی یا نہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ یہ اسکول پاسداران انقلاب کے ایک بحری کمپلیکس کے قریب واقع تھا، تاہم امریکی حکام کی جانب سے اپنے اہداف کے ڈیٹا بیس کو اپ ڈیٹ نہ کرنا اور یہ تصدیق کیے بغیر حملہ کر دینا محض انسانی غلطی یا غفلت نہیں بلکہ ایک دانستہ قدم تھا۔ ماہرین کے مطابق امریکا کو اس بات کا پورا ادراک تھا کہ اس حملے سے سویلین آبادی نشانہ بن سکتی ہے، اس کے باوجود اسکول پر بمباری کی گئی۔
اسی نوعیت کی تحقیقات کے بعد ماہرین نے ایران کے شہر لامرد میں واقع ایک اسپورٹس سینٹر پر ہونے والے حملے کو بھی اندھا دھند اور جنگی جرم قرار دیا ہے، جس کے نتیجے میں قریبی رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا اور 22 شہری ہلاک و زخمی ہوئے۔
واضح رہے کہ جون کے مہینے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اندرونی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ فروری میں ایران کے لڑکیوں کے اس اسکول پر ’جان بوجھ کر‘ حملہ نہیں کیا گیا تھا۔ اس سے قبل مارچ میں امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) بھی یہ دعویٰ کر چکی ہے کہ امریکی افواج نے مخصوص دن لامرد شہر میں کوئی حملہ نہیں کیا تھا۔

