تحریر : راجہ نورالہی عاطف
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
ادب کسی بھی معاشرے کی فکری، تہذیبی اور ثقافتی شناخت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ جو معاشرے اپنی زبان، ادب، شعر و سخن اور ثقافتی روایات سے جڑے رہتے ہیں، ان کی تہذیبی شناخت وقت گزرنے کے ساتھ مزید مضبوط ہوتی ہے۔ ہمارے خطے میں ادبی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مختلف ادبی تنظیمیں اور شخصیات جس اخلاص اور محبت کے ساتھ کام کر رہی ہیں، وہ یقیناً قابلِ قدر ہے۔ انہی روشن حوالوں میں بزمِ سعد شاہوالا جنوبی کا نام بھی نمایاں نظر آتا ہے۔
چیف آرگنائزر لٹریری اینڈ سپورٹس ایکٹیوٹیز ڈسٹرکٹ خوشاب ملک عبدالغفور آصف بوڑانہ نے بزمِ سعد شاہوالا جنوبی کی ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تنظیم پنجابی، سرائیکی اور اردو ادب کے فروغ کے لیے گرانقدر خدمات سرانجام دے رہی ہے۔ ان کے مطابق سالانہ آل پاکستان مشاعرے کا انعقاد ایک ایسی خوبصورت ادبی روایت ہے جو نہ صرف شعر و ادب سے وابستہ افراد کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے بلکہ نئی نسل کو بھی اپنی زبان و ادب سے وابستہ ہونے کا موقع دیتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مشاعرہ محض شعری نشست کا نام نہیں بلکہ یہ تہذیبی اور ادبی روایت کے تسلسل کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ جب ملک کے مختلف علاقوں سے شعراء ایک جگہ جمع ہوتے ہیں تو الفاظ کے ذریعے خیالات، احساسات، تجربات اور ثقافتی رنگ ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ ایسے پروگرام معاشرے میں مثبت سوچ، برداشت، محبت، بھائی چارے اور فکری ہم آہنگی کے فروغ میں بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
بزمِ سعد شاہوالا جنوبی کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس نے پنجابی، سرائیکی اور اردو جیسی اہم زبانوں کے ادبی ورثے کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوشش کی ہے۔ یہ تینوں زبانیں ہماری دھرتی کی تہذیبی زندگی، عوامی جذبات اور صدیوں پر محیط شعری روایت کی امین ہیں۔ ان زبانوں کے فروغ کے لیے کام کرنا دراصل ہماری مشترکہ ثقافتی میراث کی حفاظت کے مترادف ہے۔
ملک عبدالغفور آصف بوڑانہ نے بزمِ سعد شاہوالا جنوبی کے بانی ملک محمد سلیم سعد اور ان کے جملہ معاونین کو بہترین ادبی خدمات پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ بلاشبہ کسی بھی ادبی تنظیم کو مسلسل فعال رکھنا آسان کام نہیں۔ اس کے لیے وقت، وسائل، محنت اور سب سے بڑھ کر ادب سے بے لوث محبت درکار ہوتی ہے۔ ملک محمد سلیم سعد اور ان کے رفقاء کی ادبی سرگرمیاں اس امر کی عکاسی کرتی ہیں کہ اگر عزم مضبوط ہو تو محدود وسائل میں بھی بڑے اور بامقصد ادبی پروگرام منعقد کیے جا سکتے ہیں۔
آج کے دور میں جب نوجوان نسل جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کی مصروفیات میں گھری ہوئی ہے، ادبی سرگرمیوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ ہمیں ایسے پلیٹ فارم درکار ہیں جہاں نوجوان شعراء، ادیب اور اہلِ قلم اپنے تخلیقی اظہار کے مواقع حاصل کر سکیں۔ بزمِ سعد جیسی ادبی تنظیمیں اس حوالے سے ایک پل کا کردار ادا کر سکتی ہیں، جہاں سینئر اہلِ قلم اپنے تجربات نئی نسل تک منتقل کریں اور نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو۔
ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ایسی ادبی سرگرمیوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے۔ مشاعروں کے ساتھ ساتھ ادبی مذاکروں، کتابوں کی رونمائی، شعری نشستوں، نوجوان قلمکاروں کے لیے تربیتی پروگراموں اور مقامی زبانوں کے ادبی ورثے پر تحقیقی نشستوں کا اہتمام بھی کیا جائے۔ اس طرح نہ صرف ادبی ماحول کو تقویت ملے گی بلکہ نئی نسل میں مطالعے اور تخلیقی اظہار کا شوق بھی پروان چڑھے گا۔
بزمِ سعد شاہوالا جنوبی دراصل ایک ایسی ادبی شمع ہے جس کی روشنی پنجابی، سرائیکی اور اردو ادب کے چاہنے والوں تک پہنچ رہی ہے۔ اس شمع کو روشن رکھنے کے لیے ملک محمد سلیم سعد، ان کے معاونین اور تمام اہلِ ادب کی کاوشیں یقیناً قابلِ احترام ہیں۔ امید ہے کہ یہ ادبی سفر اسی جذبے، خلوص اور تسلسل کے ساتھ جاری رہے گا اور آنے والے برسوں میں بزمِ سعد مزید بڑے ادبی پروگراموں کا انعقاد کرکے خطۂ خوشاب کی ادبی شناخت کو ملک بھر میں اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔


