تحریر: ریاض ابوالخیل
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں جرائم کی دنیا روز بروز پھیلتی جا رہی ہے۔ قانون شکنی کے راستے آسان اور قانون کی پاسداری کے راستے دشوار ہوتے جا رہے ہیں۔ عجیب المیہ ہے کہ یہاں کبھی کبھی جرم کرنے والے سے زیادہ، جرم کے خلاف کھڑے ہونے والا شخص لوگوں کو کھٹکنے لگتا ہے۔ جرائم پیشہ عناصر کے حمایتی بہت مل جاتے ہیں، مگر ان کے سامنے سینہ سپر ہونے والے کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔
خوش قسمت ہوتے ہیں وہ شہر اور وہ معاشرے جہاں کوئی ایسا افسر موجود ہو جو قانون کو صرف کتابوں میں نہیں، بلکہ عملی میدان میں نافذ کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو؛ جو طاقتور کے سامنے جھکنے کے بجائے قانون کے سامنے سب کو برابر سمجھے؛ جو مظلوم کی آہ کو محض ایک آواز نہ سمجھے بلکہ اسے انصاف کی دستک جانے۔
اسی تناظر میں سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید کا کردار قابلِ توجہ ہے۔ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی، قانون کی بالادستی اور مظلوم کی داد رسی کے لیے ان کی کوششیں ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب جرائم کے مختلف نیٹ ورک اور مفادات رکھنے والے عناصر پولیس کی کارروائیوں سے ناخوش بھی ہو سکتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ان کے خلاف مختلف نوعیت کی مہم جوئی اور منفی پروپیگنڈے کی باتیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ اگر واقعی ایسا ہے تو ہمیں یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ آخر ایک پولیس افسر کا جرم کیا ہے؟ کیا اس کا جرم یہ ہے کہ وہ جرائم کے خلاف کھڑا ہے؟ کیا اس کی خطا یہ ہے کہ وہ قانون کی بالادستی چاہتا ہے؟ کیا مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا بھی اب کسی عہدے دار کے لیے قابلِ مواخذہ عمل بن گیا ہے؟
اگر ایک ایماندار اور فرض شناس افسر جرائم پیشہ عناصر کے لیے ناقابلِ قبول ہو جائے تو ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم کس کے ساتھ کھڑے ہیں—قانون کے ساتھ یا قانون شکنوں کے ساتھ؟
یہاں اہلِ قلم کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ قلم صرف تعریف کے گیت گانے کے لیے نہیں ہوتا؛ قلم کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب سچ بولنا مشکل ہو۔ صحافی، کالم نگار، دانشور اور اہلِ قلم اگر کسی افسر کی اچھی کارکردگی دیکھیں تو اس کا اعتراف کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ عوام کو یہ بتانا ضروری ہے کہ جو شخص جرائم کے خلاف لڑ رہا ہے، اسے تنہا چھوڑ دینا دراصل جرائم کے حوصلے بلند کرنا ہے۔
ہماری تاریخ میں ایسے افسر بھی گزرے ہیں جنہوں نے جرائم اور دہشت گردی کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا۔ شہید ملک محمد سعد جیسے بہادر پولیس افسر ہمارے لیے اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ امن کی قیمت کبھی کبھی بہت بھاری ہوتی ہے، مگر قومیں اپنے محافظوں کی قربانیوں اور کردار کو فراموش نہیں کرتیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم شخصیات کے بجائے اصولوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔ اگر کوئی افسر قانون کی پاسداری، امن کے قیام اور مظلوم کی داد رسی کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کر رہا ہے تو اسے حوصلہ ملنا چاہیے، دباؤ نہیں۔ اسے عوام کی حمایت ملنی چاہیے، تنہائی نہیں۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ جرائم پیشہ مافیا صرف اس وقت طاقتور نہیں ہوتا جب اس کے ہاتھ میں ہتھیار ہوں؛ وہ اس وقت بھی طاقتور ہو جاتا ہے جب معاشرہ خاموش ہو جائے، اہلِ قلم خاموش ہو جائیں اور عوام حق و باطل میں فرق کرنا چھوڑ دیں۔
لہٰذا آج وقت کا تقاضا ہے کہ جرم کے بجائے قانون کا ساتھ دیا جائے، ظالم کے بجائے مظلوم کے ساتھ کھڑا ہوا جائے، بدامنی کے بجائے امن کی آواز بلند کی جائے۔
اگر ڈاکٹر میاں سعید واقعی جرائم کے خلاف ایک مضبوط دیوار بن کر کھڑے ہیں تو آئیے، اس دیوار کو کمزور کرنے کے بجائے مضبوط کریں۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر قانون کی بالادستی پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔
ہمیں اس ملک کو سنوارنا ہے، تاراج نہیں کرنا۔
ہمیں امن کے محافظوں کا حوصلہ بڑھانا ہے، جرائم کے سرپرستوں کا نہیں۔
اور اگر تاریخ نے کبھی ہم سے پوچھ لیا کہ جب قانون اور لاقانونیت آمنے سامنے کھڑی تھی تو تم کس طرف تھے؟
تو ہمارا جواب ایسا ہونا چاہیے جس پر آنے والی نسلیں شرمندہ نہ ہوں۔
ہم قانون کے ساتھ تھے، امن کے ساتھ تھے، مظلوم کے ساتھ تھے۔
چند شاعرانہ عنوانات کے مزید آپشنز:
جرم کے اندھیروں میں قانون کا چراغ—ڈاکٹر میاں سعید کے ساتھ کھڑے ہو جائیے
جب قانون کا سپاہی تنہا ہو تو معاشرہ مجرم بن جاتا ہے
جرم کے سامنے سینہ سپر افسر کو تنہا مت چھوڑیں
مافیا کے شور میں قانون کی آواز—ڈاکٹر میاں سعید کے ساتھ
جو مظلوم کے ساتھ کھڑا ہو، ہم اس کے ساتھ کیوں نہ کھڑے ہوں؟
یہ جنگ ایک افسر کی نہیں، قانون کی بالادستی کی ہے


