Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      امریکا کے امیر ترین شخص ہونے کے ساتھ دنیا کے پہلے کھرب پتی ہونے کا اعزاز

      کیا اب فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کا استعمال مہنگا ہونے والا ہے؟ ’میٹا ون‘ متعارف کرا دی گئی

      عالمی سیکیورٹی گورننس کا قیام ،نئے عالمی ہتھیاروں کی دوڑ پر ضابطے لاگو کیے جائیں: چین کا مطالبہ

      بلیک ہول اورستاروں کی پیدائش بارے تحقیق میں اہم انکشاف

      مدینہ منورہ سے سونے، یورینئیم سمیت کمیاب اور نایاب دھاتوں کے ذخائر دریافت

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ایران پر عائد پابندیوں کےنگران پینل کی مدت میں توسیع کی امریکی قرارداد چین اور روس نے ویٹو کردی

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    نیویارک :روس اور چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران پر عائد پابندیوں کی نگرانی کرنے والے ماہرین کے پینل کی مدت میں ایک سال کی توسیع سے متعلق امریکی قرارداد کو ویٹو کردیا۔
    نجی ٹی وی چینل کے مطابق اقوام متحدہ کی 15 رکنی سلامتی کونسل میں امریکی مسودے کے حق میں 11 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ پاکستان اور صومالیہ نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
    البتہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان روس اور چین نے اپنے صوابدیدی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ایران کے خلاف امریکا کی اس قرارداد کو ویٹو کردیا جس کے باعث قرارداد منظور نہ ہوسکی۔ ووٹنگ کے دوران روس اور چین نے قرارداد کی مخالفت کی بنیادی وجہ ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کے قانونی جواز اور اسنیپ بیک میکانزم سے متعلق اختلاف کو قرار دیا تھا۔
    روس اور چین کا مؤقف ہے کہ 2015 کے جوہری معاہدے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 میں طے شدہ مدت ختم ہوچکی ہے اس لیے مغربی ممالک کی جانب سے اسنیپ بیک طریقہ کار کے ذریعے پرانی پابندیاں بحال کرنے کی قانونی حیثیت متنازع ہے۔
    روس اور چین کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی میعاد 18 اکتوبر 2025 کو ختم ہوچکی ہے۔
    روسی سفیر واسیلی نیبنزیا نے سلامتی کونسل میں کہا کہ ایران کے جوہری معاملے پر اختلافات کا حل سیاسی اور سفارتی کوششوں کے ذریعے ہی نکالا جاسکتا ہے۔
    انھوں نے مغربی ممالک پر زور دیا کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے خلیج کے بحران کے حل کی کوششیں مزید پیچیدہ ہوں۔
    چین بھی اس مؤقف کا اظہار کرچکا ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 ختم ہوچکی ہے اور سلامتی کونسل کو ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے کو مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے ذریعے آگے بڑھانا چاہیے۔
    یادرہےکہ سلامتی کونسل میں اس امریکی قرارداد کا مقصد ایران پر بین الاقوامی پابندیوں کی نگرانی کرنے والے پینل آف ایکسپرٹس کا مینڈیٹ ستمبر 2027 تک یعنی مزید ایک سال کی توسیع کرنا تھا۔یہ پینل آف ایکسپرٹ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو پابندیوں کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی اور رپورٹنگ میں معاونت فراہم کرتا ہے۔
    دوسری جانب امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کا مؤقف اس سے مختلف ہے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے عالمی جوہری معاہدے کی بعض شرائط پر عمل نہ کرنے کے باعث 2025 میں اسنیپ بیک میکانزم فعال کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی سابقہ پابندیاں دوبارہ نافذ ہوگئیں۔
    برطانیہ نے سلامتی کونسل میں مؤقف اختیار کیا کہ فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے قرارداد 2231 کے تحت اسنیپ بیک کا عمل شروع کیا تھا اور ستمبر 2025 میں یہ عمل مکمل ہونے کے بعد ایران سے متعلق سابقہ پابندیاں دوبارہ نافذ ہوگئیں۔
    عالمی جوہری معاہدہ 2015 ایران کے ساتھ امریکا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین سمیت عالمی طاقتوں کے درمیان طے پایا تھا۔ معاہدے کا مقص ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا تھا جس کے بدلے ایران پر عائد بعض بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی۔ اس معاہدے کی توثیق سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے ذریعے ہوئی تھی۔ معاہدے میں ایسا طریقہ کار بھی شامل تھا جسے عام طور پر اسنیپ بیک کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں پابندیاں دوبارہ نافذ کرنے کا عمل شروع کیا جاسکتا تھا۔
    بعد ازاں 2025 میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے یہ طریقہ کار فعال کیا تاہم روس، چین اور ایران نے اس اقدام کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا۔ یہی اختلاف اب سلامتی کونسل میں ایران سے متعلق پابندیوں کی نگرانی کے پورے نظام کو متاثر کر رہا ہے۔
    دلچسپ بات یہ ہے کہ سلامتی کونسل میں قرارداد کی شکست کے باوجود ایران پر پابندیوں کی نگرانی کرنے والا ماہرین کا پینل گزشتہ ایک سال سے عملی طور پر کام نہیں کر رہا تھا۔ سلامتی کونسل کے ارکان گزشتہ ایک سال کے دوران پینل کے ارکان کی تقرری پر اتفاق نہیں کر سکے جس کے باعث پابندیوں کی خلاف ورزیوں سے متعلق آزادانہ نگرانی پہلے ہی متاثر تھی۔ نئی امریکی قرارداد کا مقصد اسی نگرانی کے مینڈیٹ کو باضابطہ طور پر مزید ایک سال جاری رکھنا تھا۔

    Related Posts

    ”ماردیا جائے یا چھوڑ دیا جائے“ ایران پر اہم فیصلے کے قریب ہوں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ایران کے میناب اسکول پر امریکی حملہ ’جنگی جرم‘ قرار، اقوام متحدہ

    پاکستان دنیا کا آلودہ ترین ملک، صاف ترین ملک کون سا ہے؟

    مقبول خبریں

    ”ماردیا جائے یا چھوڑ دیا جائے“ ایران پر اہم فیصلے کے قریب ہوں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ایران کے میناب اسکول پر امریکی حملہ ’جنگی جرم‘ قرار، اقوام متحدہ

    ایران پر عائد پابندیوں کےنگران پینل کی مدت میں توسیع کی امریکی قرارداد چین اور روس نے ویٹو کردی

    پاکستان دنیا کا آلودہ ترین ملک، صاف ترین ملک کون سا ہے؟

    امریکا سعودی عرب کو 24.3 ارب ڈالرکے ایف 35 لائٹننگ ٹو سٹرائیک فائٹر لڑاکا طیاروں فروخت کرے گا

    بلاگ

    پاکستان اور سعودیہ کو ایک جیسی صورت حال کا سامنا

    جرم کے سامنے دیوار بننے والے افسر کے ساتھ کھڑے ہو جائیے

    ایندھن کی بچت کے ساتھ تعلیم کا تسلسل کیسے برقرار رکھا جائے؟

    بزمِ سعد شاہوالا جنوبی: ادب کی شمع روشن رکھنے والی ایک توانا آواز

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں اچانک ایک نیا اور سنسنی خیز موڑ

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.