سرگودھا (راجہ نورالہی عاطف سے)
انور گوئندی اردو ادب کا باب الداخلہ تھے انہیں بجا طور پہ ادب کا اثاثہ کل کہا جاسکتا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انڈیا میں مقیم مسلم کمیونٹی کے سرکردہ رکن راشد دیشمکھ نے نامورقلمکارہ منزہ انور گوئندی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ محترم انور گوئندی ادب کی روح رواں تھے وہ ایسی ہمہ جہت شخصیت تھے جنہوں نے ادب کی بنیاد رکھی وہ بیک وقت ادب کی کئی اصناف کے لکھاری ، انسانیت کے علم بردار اور انجمن ترقی اردو کے ناظم اعلی تھے ۔ زندگی کی سنگلاخ راہیں اور تیز کڑکتی بجلیاں بھی ان کاراستہ نہیں روک سکیں ۔ وہ ایک ایسے اعلی ظرف اور باوقار انسان تھے جنہوں نے ادب کی راہیں استوار کیں اور علم و ادب کا چراغ جلایا ان کا وسیع النظری ، اعلی ظرفی اور بلند اخلاق نے بنجر زمین میں ادب کی نمو کی اور یہی وجہ ہے کہ آج ان کا نام تاریخ ادب میں روشنی کا مظہر ہے ۔ انور گوئندی کی ادبی خدمات اور فلاحی کام ان کے نام کو ہمیشہ تابندہ رکھیں گے انہوں نے اپنی عملی زندگی میں یہ ثابت کیا کہ سخن آرائی کے ساتھ ساتھ مثبت فکر عمل بےحد ضروری ہے وہ صوفیانہ مزاج رکھنے والے منکسر المزاج انسان تبے خوش اخلاقی ان کی طبع کا حصہ تھی لیکن آپ دلوں کو فتح کرنے کا ہنر جانتے تھے ۔ منزہ گوئندی اپنے والد کے ادبی اثاثے کی بالکل درست وارث ثابت ہوئی ہیں وہ خود بھی منجھی ہوئی لکھاری ہیں ادبی منظر نامے پر نظر دوڑائیں تو بجا طور پہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ انور گوئندی ادب کی یونیورسٹی تھیں اور منزہ گوئندی اس کی مختار کل ہیں ۔ انور گوئندی خوش نصیب ہیں کہ انہیں منزہ گوئندی جیسی اولاد نصیب ہوئی۔


