فیٹی لیور کی بیماری بنیادی طور پر خراب طرز زندگی، غیر صحت بخش خوراک کی وجہ ہوتی ہے۔
جگر ہمارے جسم کے اہم ترین اعضاء میں سے ایک ہے۔ یہ جسم کے لیے ضروری ہارمونز بنانے، فاضل مادوں کو جسم سے خارج کرنے، خوراک ہضم کرنے اور خون میں گلوکوز کی سطح برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جگر جسم میں کئی اہم کام انجام دیتا ہے۔
آج کل جگر میں چربی جمع ہونا ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے اور بہت سے لوگ فیٹی لیور کی شکایت میں مبتلا ہیں۔ ماہرین صحت خبردار کرتے ہیں کہ اگر اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ سنگین اور بعض صورتوں میں جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کل بہت سے نوجوان بھارتی شراب کا ایک قطرہ بھی استعمال کیے بغیر فیٹی لیور کا شکار ہو رہے ہیں۔ یہ صورتحال تشویش کا باعث ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ نوجوانوں میں یہ مسئلہ کیوں بڑھ رہا ہے اور اس کی علامات کیا ہیں۔
شراب نہ پینے والوں میں بھی فیٹی لیور
فیٹی لیور کا مسئلہ اب بھی زیادہ تر شراب نوشی سے جوڑا جاتا ہے۔ تاہم ایسے بھارتیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو شراب نہیں پیتے، اس کے باوجود ان کے جگر میں معمول سے زیادہ چربی جمع ہو رہی ہے۔
یہ تبدیلی جسم میں میٹابولک صحت سے متعلق مسائل میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔ اس کیفیت کو میٹابولک ڈس فنکشن ایسوسی ایٹڈ اسٹیٹوٹک لیور ڈیزیز (ایم اے ایس ایل ڈی) کہا جاتا ہے۔
ایم اے ایس ایل ڈی کیا ہے؟
میو کلینک کے مطابق کئی برسوں تک فیٹی لیور کو صرف زیادہ وزن، ذیابیطس یا بہت زیادہ شراب نوشی کرنے والے افراد کا مسئلہ سمجھا جاتا رہا۔ تاہم فیٹی لیور کے بارے میں طبی دنیا کی سمجھ میں اب کافی تبدیلی آ چکی ہے۔
جگر میں چربی جمع ہونے کی اس کیفیت کو اب صرف موٹاپے یا شراب نوشی سے جوڑنا درست نہیں سمجھا جاتا، جدید طب میں اسے میٹابولک ڈس فنکشن ایسوسی ایٹڈ اسٹیٹوٹک لیور ڈیزیز (MASLD) کہا جاتا ہے۔
اس سے پہلے اسے نان الکوحلک فیٹی لیور ڈیزیز (NAFLD) کہا جاتا تھا۔ یہ بیماری جسم کے میٹابولزم سے جڑی ہوئی ہے اور صرف شراب نوشی یا موٹاپے کی وجہ سے نہیں ہوتی۔
بھارتیوں کو فیٹی لیور کا زیادہ خطرہ کیوں؟
اندرونی چربی تیزی سے جمع ہونا
بھارتیوں میں ویسرل فیٹ (Visceral Fat) یعنی اندرونی اعضاء کے اردگرد جمع ہونے والی چربی تیزی سے بڑھنے کی وجہ سے فیٹی لیور کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق بہت سے لوگ بظاہر زیادہ وزن والے نہیں دکھائی دیتے، لیکن ان کے پیٹ کے اردگرد بڑی مقدار میں اندرونی چربی جمع ہو سکتی ہے۔ باہر سے دبلا پتلا نظر آنے کے باوجود جسم کے اندر زیادہ چربی کا یہ رجحان عام ہے۔
یہ چھپی ہوئی چربی بظاہر کسی علامت کے بغیر میٹابولک بیماریوں اور جگر کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔
کھانے پینے کی عادات بھی بڑی وجہ
جدید طرزِ خوراک بھی فیٹی لیور کے بڑھتے ہوئے کیسز کی ایک اہم وجہ ہے۔ ماہرین کے مطابق میدہ، سفید چاول، مٹھائیاں، میٹھے مشروبات، تلی ہوئی اشیا اور پیک شدہ اسنیکس کا بار بار استعمال خون میں شوگر اور انسولین کی سطح تیزی سے بڑھا سکتا ہے۔
جب جسم اس اضافی توانائی کو مناسب طریقے سے استعمال نہیں کر پاتا تو جگر اسے چربی کی شکل میں ذخیرہ کرنے لگتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ عمل جگر میں چربی کے جمع ہونے اور میٹابولک صحت خراب ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔
طرزِ زندگی بھی ذمہ دار
صرف خوراک ہی اس مسئلے کی وجہ نہیں ہے بلکہ روزمرہ کی عادات بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل وقت تک کام کرنا، زیادہ دیر تک بیٹھے رہنا، مناسب نیند نہ لینا اور جسمانی سرگرمی کی کمی فیٹی لیور کے خطرے کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
ایم اے ایس ایل ڈی کی علامات
نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے مطابق، MASLD میں اکثر کوئی واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ تاہم علامات ظاہر ہونے کی صورت میں ان میں شامل ہیں:
بہت زیادہ تھکن محسوس ہونا۔
طبیعت ناساز یا خراب محسوس ہونا
پیٹ کے اوپری دائیں حصے میں درد یا بے چینی
ایم اے ایس ایچ اور سروسس کی ممکنہ علامات
اگر بیماری آگے بڑھ کر ایم اے ایس ایچ یا سروسس کی شکل اختیار کر لے، جس میں جگر پر شدید داغ یا زخم بننے لگتے ہیں، تو درج ذیل علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:
جلد میں خارش۔
پیٹ میں پانی جمع ہونے کی وجہ سے سوجن، جسے ایسائٹس کہا جاتا ہے
سانس لینے میں دشواری
ٹانگوں میں سوجن
جلد کے بالکل نیچے مکڑی کے جال جیسی خون کی باریک رگیں نمودار ہونا
تلی کا سائز بڑھ جانا
ہتھیلیوں کی جلد کے رنگ میں تبدیلی
جلد اور آنکھوں کا پیلا پڑ جانا، جسے یرقان کہا جاتا ہے
ایم اے ایس ایل ڈی کے خطرے کے عوامل
کئی بیماریاں اور صحت سے متعلق مسائل MASLD کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں، جن میں شامل ہیں
موٹاپا، خاص طور پر کمر کے گرد چربی جمع ہونا۔
ٹائپ 2 ذیابیطس
ہائی کولیسٹرول
خون میں ٹرائی گلیسرائیڈز کی زیادہ سطح۔
انسولین ریزسٹنس
میٹابولک سنڈروم
پولی سسٹک اووری سنڈروم (PCOS)
آبسٹریکٹو سلیپ ایپنیا
تھائرائڈ گلینڈ کا کم فعال ہونا، جسے ہائپوتھائرائڈزم کہا جاتا ہے
پٹیوٹری گلینڈ کا کم فعال ہونا، جسے ہائپو پٹیوٹارزم کہا جاتا ہے
گروتھ ہارمون کی کمی، یعنی جسم کی نشوونما کے لیے کافی گروتھ ہارمون پیدا نہ کرنا

