دیربالا(بیورو چیف ریاض ابوالخیل)

جماعت اسلامی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مہنگائی نے غریب اور متوسط طبقے کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں عام شہری کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں، جبکہ بے روزگاری میں اضافے کے باعث محنت کش طبقہ اپنے گھر کا چولہا جلانے میں مشکلات کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روٹی ہر شہری کی بنیادی ضرورت ہے، مگر گندم اور آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عوام کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل بنا دیا ہے۔
جماعت اسلامی کی جانب سے شہریوں، تاجروں اور کاروباری حضرات سے ہڑتال میں بھرپور شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا گیا کہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے، گندم اور آٹے کی قیمتیں عوام کی قوتِ خرید کے مطابق مقرر کی جائیں اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔دریں اثنا ملاکنڈ ڈویژن کے مختلف بازاروں سے جزوی شٹر ڈاون کی خبریں موصول ہوٸی ہیں جبکہ بعض بازاروں ٹریڈ یونینز کے عہدداروں اور دوکانداروں کے درمیان دوکانات بند نہ کرنے پر لڑاٸی جھگڑے بھی رہورٹ ہوٸے۔
جماعت اسلامی کے مطابق شٹر ڈاؤن ہڑتال کا مقصد کسی فرد یا کاروباری طبقے کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ حکومت اور متعلقہ حکام کی توجہ عوام کو درپیش سنگین معاشی مسائل کی جانب مبذول کرانا ہے۔ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے، اشیائے خورونوش کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے اور غریب و متوسط طبقے کو معاشی مشکلات سے نکالنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
شاہپور چاکر میں جماعت اسلامی کے اعلان کے بعد مختلف کاروباری مراکز اور بازاروں میں ہڑتال کے حوالے سے سرگرمیاں جاری رہیں، جبکہ شہری حلقوں نے بھی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روزگار کے مسائل پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔



