واشنگٹن:امریکی محکمہ انصاف اور ارب پتی ایلون مسک کے مقبول ترین سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) نے مل کر ایک بڑے سکیورٹی خطرے کا پردہ فاش کیا ہے۔ امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے بدھ کے روز باضابطہ تصدیق کی ہے کہ ان کا ادارہ اس گھناؤنے سائبر حملے میں ملوث عناصر کی شناخت اور گرفتاری کے لیے ایکس کے ساتھ قریبی تعاون کر رہا ہے، جس نے رواں ہفتے لاکھوں صارفین کو اپنی لپیٹ میں لینے کی کوشش کی تھی۔
This week, sophisticated cyber criminals attempted a password-recovery attack on hundreds of thousands of X users. X disrupted the attack to prevent user accounts from being captured. But, as we’ve shown, the Justice Department will stop at nothing in its pursuit of cyber…
— Attorney General Todd Blanche (@AGToddBlanche) September 2, 2026
اٹارنی جنرل نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ "کچھ انتہائی طاقتور اور ماہر سائبر مجرموں” نے اس حملے کو انجام دینے کی کوشش کی، تاہم پلیٹ فارم کے سکیورٹی سسٹمز نے ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس خطرناک حملے کو کامیابی سے ناکام بنا دیا۔ اگرچہ محکمہ انصاف نے اس واقعے کی مزید اندرونی تفصیلات تاحال ظاہر نہیں کی ہیں، لیکن پاس ورڈ ریکوری (Password-recovery) حملے عموماً وہ ہتھکنڈے ہوتے ہیں جن میں ‘فارگٹ پاس ورڈ’ کے عمل کو ہیک کر کے آن لائن اکاؤنٹس تک غیر قانونی رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
یہ سکیورٹی واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر کی بڑی کمپنیاں اور ادارے مصنوعی ذہانت پر مبنی سائبر حملوں اور خطرناک رینسم ویئر آپریشنز میں ہونے والے ہوشربا اضافے سے نبردآزما ہیں۔ یہ جدید حملے نہ صرف حساس ترین معلومات چرا سکتے ہیں بلکہ کارپوریٹ اداروں کے نظام کو بھی مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
صرف چند روز قبل امریکی محکمہ انصاف نے ‘QTFY’ نامی ایک بڑے چینی سائبر جاسوسی نیٹ ورک کے خلاف بھی ایک بڑی کارروائی کا اعلان کیا تھا، جس نے امریکی سینیٹ، فیڈرل ریزرو، ناسا اور دیگر اہم ترین سرکاری اداروں کو اپنے نشانہ بنایا تھا۔ ان بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے وائٹ ہاؤس نے گزشتہ ماہ ایک خصوصی کوآرڈینیشن گروپ کے قیام کا اعلان بھی کیا ہے، جو اے آئی ڈیولپرز اور اہم انفراسٹرکچر کے آپریٹرز کو اکھٹا کر کے سائبر سکیورٹی کی کمزوریوں کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کرے گا۔

