لاہور:پنجاب کی صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ زاہد بخاری نے کہا ہے کہ ایک خاتون کے کردار، عزت اور وقار کو جھوٹی اور فحش ویڈیوز کے ذریعے نشانہ بنانے والے عناصر اب قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ فیک نیوز، جھوٹ اور کردار کشی کو سیاست کا گھناؤنا ہتھیار بنانے والوں کو اب عدالت میں اپنے اعمال کا جواب دینا ہوگا۔
عظمیٰ بخاری نے انکشاف کیا کہ عدالتی حکم اور اپنی خواہش کے مطابق انہوں نے خود عدالت سے پُرزور استدعا کی تھی کہ ملزمہ فلک جاوید کو جیل سے لا کر عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ وہ ان کی براہِ راست موجودگی میں اپنا بیان ریکارڈ کرا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جرح کا سامنا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار تھیں اور کافی دیر تک عدالت میں منتظر رہیں، مگر افسوس کہ ملزمہ کے وکلاء نے ایک بار پھر سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دائر کر دی۔
صوبائی وزیر نے بتایا کہ عدالت نے اس تاخیری حربے کا نوٹس لیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ اب آئندہ تاریخ یعنی 12 ستمبر 2026ء کو صبح 10 بجے جرح کے لیے حتمی اور آخری موقع فراہم کیا جائے گا، اور اس کے بعد مزید کوئی التوا نہیں دیا جائے گا۔ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ ملزمہ کے وکلاء مکمل تیاری کے ساتھ پیش ہوں، بصورتِ دیگر عظمیٰ بخاری کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کر لیا جائے گا۔
اس موقع پر غلط رپورٹنگ اور عدالتی کارروائی میں نظم و ضبط خراب کرنے کے واقعے پر بھی بات کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اس قسم کی بدنظمی آئندہ ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی، اور قانون کی خلاف ورزی یا خلل ڈالنے والے ذمہ دار افراد کے خلاف ضابطہ فوجداری کی دفعہ 352 (1) کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ اب مزید تاخیر کا کوئی جواز باقی نہیں رہا، حقائق جلد سب کے سامنے آئیں گے اور جھوٹ کی سیاست کرنے والے قانون کے کٹہرے میں ہوں گے۔
"12 ستمبر کو ہرصورت جرح، کردار کشی کرنے والوں کے پاس اب بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں،“ عظمیٰ بخاری

