تل ابیب:دنیا میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں،،،،اسرائیل بھر کے اسکولوں اور کنڈرگارٹنز میں منگل کے روز باضابطہ طور پر نئے تعلیمی سال 2026-2027 کا آغاز ہو گیا ہے۔ اور دل چسپ امر یہ ہے کہ اس سال سلیبس میں مصنوعی ذہانت یا آرٹی فیشل انٹیلی جنس AI اور اکاؤنٹینسی کے مضامین پہلی جماعت سے سلیبس کا حصہ ہو ں گے۔
وزارتِ تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں تقریبا 2.6 ملین (26 لاکھ) طلبہ تعلیمی عمل میں حصہ لے رہے ہیں، جن میں 180,000 پہلی جماعت کے ننھے منھے طلبہ بھی شامل ہیں۔ وزارتِ تعلیم نے اس سال طلبہ میں تعلق، لچک (Resilience)، شناخت اور جدید دنیا کے تقاضوں کے مطابق عملی مہارتیں پیدا کرنے کے لیے کئی نئے پروگراموں کا آغاز کیا ہے۔
وزیرِ تعلیم یوآو کیش نے تعلیمی سال کے آغاز پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس سال ہماری توجہ اس بات پر ہے کہ طلبہ کو روایات، جڑوں اور شناخت سے جڑے رہنے کے ساتھ ساتھ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں کامیابی کے لیے جدید ترین سائنسی و تکنیکی اوزار فراہم کیے جائیں۔
نئے تعلیمی سال کے آغاز پر وزارتِ تعلیم نے چند اہم اور انقلابی فیصلے کیے ہیں، جس کے تحت مالیاتی تعلیم (Financial Education) اسکولوں کی تاریخ میں پہلی بار نویں جماعت کے طلبہ کے لیے باقاعدہ مضمون کے طور پر شامل کیا گیا ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو خودمختار مالیاتی انتظام اور تنقیدی سوچ کی تربیت دینا ہے۔
تعلیمی نظام اور امتحانات میں مصنوعی ذہانت کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے۔ آٹھویں اور نویں جماعت کے طلبہ کے لیے 20 گھنٹے کا خصوصی پروگرام رکھا گیا ہے جس میں طلبہ کو AI کے مثبت استعمال، جعلی معلومات کی شناخت اور اخلاقیات سکھائی جائیں گی۔
تعلیمی سال کے پہلے ہفتے میں پڑھائی کے بجائے طلبہ کے مابین باہمی اعتماد، سماجی رابطوں اور ذہنی و جذباتی مضبوطی پر زور دیا جائے گا تاکہ تشدد اور سماجی تنہائی جیسے مسائل کا تدارک کیا جا سکے۔
تاریخ میں پہلی بار مالیاتی تعلیم اور AI کو اسکول میں لازمی کیوں بنایا گیا؟ اسرائیل دنیا کو کیسے شکست دے رہا ہے !

