بانجھ پن کو طویل عرصے سے عورت سے منسوب کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم حاملہ ہونے کا امکان دونوں پر یکساں طور پر منحصر ہے۔
جوڑوں میں بانجھ پن کے مسئلے کو طویل عرصے سے زیادہ تر خواتین سے جوڑا جاتا رہا ہے، حالانکہ حمل ٹھہرنے کے امکانات دونوں پارٹنرز کی صحت پر یکساں طور پر منحصر ہوتے ہیں۔ جب حمل اسقاطِ حمل پر ختم ہوتا ہے تو طبی جانچ میں عموماً خاتون کی عمر، رحم کی صحت، ہارمونز، جینیاتی عوامل اور دیگر طبی مسائل کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
تاہم، اگست 2026 میں معروف طبی جریدے دی لینسیٹ آبسٹیٹرکس، گائناکولوجی اینڈ ویمنز ہیلتھ میں شائع ہونے والی ایک نئی ڈنمارک کی تحقیق نے مردوں کے منی میں موجود بیکٹیریا کے عدم توازن، جسے سیمینل ڈِس بایوسس کہا جاتا ہے، اور حمل ضائع ہونے یا آئی وی ایف کی ناکامی کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی ہے۔
اب تک زرخیزی سے متعلق مسائل میں زیادہ تر خواتین کے رحم یا اندام نہانی کے مائیکرو بایوم پر توجہ دی جاتی رہی ہے، لیکن اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ مردوں کا تولیدی مائیکرو بایوم، یعنی منی میں موجود بیکٹیریا بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
تحقیق کیا کہتی ہے؟
ڈنمارک میں کی گئی اس تحقیق میں ایسے جوڑوں کے آنتوں، اندام نہانی اور منی کے مائیکرو بایوم کا جائزہ لیا گیا جو تولیدی کا علاج کرا وا رہے تھے یا بار بار حمل ضائع ہونے کی شکایت کے باعث طبی جانچ سے گزر رہے تھے۔
محققین نے منی میں بیکٹیریا کے ایک مخصوص پیٹرن کی نشاندہی کی، جسے سیمینل ویجائنل ڈِس بایوسس (V-dysbiosis) کا نام دیا گیا۔ یہ بیکٹیریائی عدم توازن خراب تولیدی نتائج سے منسلک پایا گیا۔
یہ نتائج اس لیے اہم ہیں کیونکہ عام سیمین اینالیسس میں عموماً بیکٹیریا کی موجودگی کے بجائے اسپرم کی تعداد، حرکت اور ساخت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس تحقیق نے صرف بیکٹیریا کے عدم توازن اور خراب تولیدی نتائج کے درمیان تعلق ظاہر کیا ہے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ منی میں موجود بیکٹیریا براہِ راست اسقاطِ حمل کا سبب بنتے ہیں۔
تحقیق کے اہم نتائج
اس تحقیق میں 353 خواتین اور ان کے 191 مرد پارٹنرز شامل تھے۔ محققین نے ڈیپ شاٹ گن میٹا جینومک سیکوئنسنگ کے ذریعے منی، آنتوں اور اندام نہانی کے نمونوں میں موجود مائیکروبیل کمیونٹیز کا تجزیہ کیا۔
تحقیق کے مطابق آئی وی ایف گروپ میں تقریباً 24 فیصد مردوں جبکہ بار بار اسقاطِ حمل والے گروپ میں 41 فیصد مردوں کے منی میں بیکٹیریائی عدم توازن پایا گیا۔
آئی وی ایف گروپ میں ان جوڑوں کے ہاں، جن کے مرد پارٹنر کا بیکٹیریائی پروفائل متوازن تھا، 85 فیصد کیسز میں زندہ بچے کی پیدائش ہوئی، جبکہ سیمینل ڈِس بایوسس والے کیسز میں یہ شرح 57 فیصد رہی۔
تاہم محققین نے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا کہ کوئی مخصوص بیکٹیریا براہِ راست اسقاطِ حمل کا سبب بنتا ہے۔
سیمین مائیکرو بایوم کیا ہے؟
سیمین مائیکرو بایوم سے مراد ان مختلف مائیکرو آرگینزمز کا مجموعہ ہے جو منی میں موجود ہوتے ہیں۔ ان میں لیکٹو بیسیلس، پریووٹیلّا اور سیوڈوموناس جیسے بیکٹیریا شامل ہو سکتے ہیں۔
ماضی میں منی کو جراثیم سے پاک سمجھا جاتا تھا، لیکن اب یہ معلوم ہو چکا ہے کہ اس میں پروسٹیٹ، خصیوں اور پیشاب کی نالی سے آنے والے مختلف مائیکرو آرگینزمز موجود ہو سکتے ہیں۔ یہ اسپرم کی صحت اور مردانہ زرخیزی میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق لیکٹو بیسیلس کی زیادہ مقدار عام طور پر بہتر اسپرم موٹیلیٹی، زیادہ اسپرم کاؤنٹ اور بہتر زرخیزی سے منسلک پائی جاتی ہے۔

