ممبئی :بھارتی روپیہ جمعرات کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں 11 پیسے کی گراوٹکے ساتھ 95.55 روپے فی ڈالر کی سطح پر بند ہوا۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق امریکی کرنسی کی عالمی سطح پر مضبوطی اور بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں کمزوری نے روپے پر دباؤ ڈالا، اگرچہ خام تیل کی قیمتوں میں نرمی نے کچھ حد تک روپے کو سہارا دیا۔ بینکنگ ذرائع کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی مضبوطی نے خام تیل کی کم ہوتی قیمتوں سے ملنے والے فائدے کو زائل کردیا۔
عالمی سطح پر برینٹ خام تیل کی قیمت چند سیشنز کے بعد پہلی مرتبہ 90 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی۔ اس کی ایک وجہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے ذریعے عارضی بحری راہداری کے حوالے سے جاری مذاکرات کو قرار دیا گیا ہے۔ اگرچہ ابھی کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا، تاہم مذاکرات جاری رہنے سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں طویل خلل کے خدشات کچھ کم ہوئے ہیں۔
انٹربینک فارن ایکسچینج مارکیٹ میں روپیہ 95.50 روپے فی ڈالر پر کھلا۔ کاروبار کے دوران اس نے 95.40 کی بلند ترین سطح اور 95.56 کی کم ترین سطح کو چھوا، تاہم آخر میں 95.55 روپے فی ڈالر پر بند ہوا۔ منگل کو روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 26 پیسے مضبوط ہوکر 95.44 کی سطح پر بند ہوا تھا۔ بدھ کو عید میلاد النبیﷺ کے موقع پر بھارتی فارن ایکسچینج مارکیٹ بند رہی۔
فاریکس مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں کی توجہ اب امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش کی جیکسن ہول سمپوزیم میں ہونے والی تقریر پر مرکوز ہے۔ کوٹک سیکیورٹیز کے ہیڈ آف کموڈیٹی اینڈ کرنسی ریسرچ انندیا بنرجی کے مطابق رواں ماہ روپے کی سمت کا بڑا انحصار بیرونی مالیاتی بہاؤ پر ہے۔ بنرجی کا کہنا تھا کہ اگست کی 31 تاریخ تک ڈپازٹ کی آخری تاریخ اور دسمبر تک جاری رہنے والی ای سی بی ونڈو کے باعث ان اسکیموں کے تحت مجموعی مالیاتی بہاؤ 85 سے 90 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
ان کے مطابق ان مالیاتی آمد نے روپے کے لیے ایک مضبوط سہارا پیدا کیا ہے اور اس کی قدر میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے روپے کے لیے 95 سے 96 کی آپریٹنگ رینج کا اندازہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر روپیہ 95 سے نیچے مضبوطی کے ساتھ بند ہوتا ہے تو یہ 94 کی سطح کی جانب بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے بھارتی روپے کے حوالے سے اپنا مؤقف مثبت قرار دیا۔

