تحریر: ریاض ابوالخیل
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
دیر سٹی کے مشرق اور شمال میں چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ڈوگ پائین قدرت کا ایک ایسا حسین شاہکار ہے، جسے دیکھ کر بے اختیار دل گواہی دیتا ہے کہ اگر جنت کا کوئی زمینی عکس ہو تو شاید ایسا ہی ہو۔ یہاں قدم قدم پر قدرت اپنی رعنائیاں بکھیرتی نظر آتی ہے اور انسان کچھ دیر کے لیے دنیا کی ہنگامہ خیزی بھول کر حسنِ فطرت کی آغوش میں کھو جاتا ہے۔
ڈوگ پائین کی سب سے بڑی خوبصورتی اس کے سرسبز و شاداب جنگلات ہیں۔ گھنے درختوں کے درمیان سے آتی ہوئی ٹھنڈی ہوا، میٹھے اور شفاف پانی کے چشمے، مختلف پھلوں کے باغات اور ہر طرف بکھری ہوئی ہریالی اس علاقے کو ایک منفرد دلکشی عطا کرتی ہے۔ یہاں کا سبزہ صرف آنکھوں کو نہیں بھاتا بلکہ روح کو بھی تازگی بخشتا ہے۔
دور تک پھیلے ہوئے کوہسار، کوہِ ہندوکش کے دلکش سلسلے، بلند و بالا پہاڑ اور سرسبز مرغزار ڈوگ پائین کے حسن کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔ موسم بھی اس خطے پر خاص مہربان دکھائی دیتا ہے۔ معتدل اور خوشگوار آب و ہوا، صاف فضا اور قدرتی خاموشی شہری زندگی کی تھکن سے چور انسان کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔
یہاں سینکڑوں نفوس پر مشتمل آبادی صدیوں سے اس خوبصورت ماحول کا حصہ ہے، مگر افسوس کہ اس قدرتی دولت کے باوجود ڈوگ پائین بنیادی سہولیات کے حوالے سے اب بھی محرومی کا شکار ہے۔ بیشتر سڑکیں کچی ہیں، گلی کوچے پختہ نہیں، تعلیمی اداروں کی کمی ہے اور سیاحوں کے لیے ضروری سہولیات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔
قدرت نے ڈوگ پائین کو پہلے ہی ایک بہترین ٹورازم اسپاٹ بنا رکھا ہے، ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے یہاں توجہ دیں۔ بہتر سڑکیں تعمیر کی جائیں، تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں، صاف پانی اور دیگر بنیادی ضروریات پوری کی جائیں اور سیاحت کے فروغ کے لیے مناسب انفراسٹرکچر قائم کیا جائے۔ اگر یہاں بنیادی سہولیات فراہم کردی جائیں تو ڈوگ پائین نہ صرف مقامی بلکہ ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے لیے بھی ایک شاندار سیاحتی مرکز بن سکتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ قدرت کی اس حسین امانت کو محض ایک دور افتادہ بستی سمجھ کر نظرانداز نہ کیا جائے۔ ڈوگ پائین میں سیاحت، معیشت اور مقامی ترقی کے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ ذرا سی سرکاری سرپرستی، تھوڑی سی منصوبہ بندی اور خلوصِ نیت اس علاقے کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
ڈوگ پائین دراصل ایک ایسا نگینہ ہے جو دیر کی خوبصورت وادی کے تاج میں پہلے ہی جڑا ہوا ہے؛ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ اس نگینے کی چمک دنیا کو دکھائی جائے۔
ڈوگ پائین کو سہولیات دیں، اس کی خوبصورتی کو محفوظ بنائیں اور اسے سیاحت کے نقشے پر نمایاں مقام دیں—کیونکہ یہ واقعی زمین پر بچھی ہوئی ایک جنت ہے



