29 ریاستوں کے مقدمے میں میٹا پر بچوں کو عادی بنانے، ذہنی مسائل اور خودکشی کے رجحانات کو ہوا دینے کا الزام
اوکلینڈ / واشنگٹن:امریکی تاریخ میں سوشل میڈیا کے بچوں پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے سب سے بڑے اور اہم قانونی مقدمے میں میٹا (Meta) کی اعلیٰ قیادت کٹہرے میں آ گئی ہے۔
انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسیری (Adam Mosseri) منگل کے روز اوکلینڈ، کیلیفورنیا کی وفاقی عدالت میں گواہی کے لیے پیش ہوئے، جہاں ان سے اس بات پر سخت جرح کی گئی کہ آیا میٹا نے فیس بک اور انسٹاگرام کو اس طرح ڈیزائن کیا ہے کہ کم عمر بچے اس کی لت میں مبتلا ہو جائیں اور ان کی سلامتی کو نظر انداز کیا جائے۔
امریکہ کی 29 ریاستوں کی جانب سے دائر کیے جانے والے اس مقدمے میں کیلیفورنیا، کولوراڈو، کینٹکی اور نیو جرسی سمیت دیگر ریاستوں نے الزام عائد کیا ہے کہ میٹا نے جان بوجھ کر نوجوان صارفین کو اپنے پلیٹ فارمز کا عادی بنانے کے لیے فیچرز بنائے، جس سے بچوں میں ڈپریشن، شدید بے چینی (Anxiety) اور یہاں تک کہ خودکشی کے رجحانات میں اضافہ ہوا۔
تمام 29 ریاستوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ میٹا نے 13 سال سے کم عمر بچوں کا ذاتی ڈیٹا غیر قانونی طور پر اکٹھا کر کے وفاقی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ ریاستوں کی جانب سے اس مقدمے میں تقریباً 200 ارب ڈالر کے سول جرمانے کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔
عدالت میں کارروائی کے دوران انسٹاگرام کے ڈائریکٹر آف پروڈکٹ ڈیزائن فرانسسکو فوگو (Francesco Fogu) نے بھی گواہی دی۔ کولوراڈو کے وکیل کی جرح کے دوران انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ 2023 میں قیادت کے لیے تیار کی گئی ایک پریزنٹیشن سے وہ ڈیٹا ہٹا دیا گیا تھا جس میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ نوعمر انسٹاگرام صارفین کو بالغوں کے مقابلے میں 1.5 گنا زیادہ ہراسانی (Bullying)، خودکشی، نفرت انگیز مواد، عریانی اور تشدد پر مبنی مواد دکھایا جاتا ہے
انہوں نے یہ بھی مانا کہ ‘بریک لیں’ (Take a break) کے فیچر کو بائی ڈیفالٹ نہ رکھ کر کمپنی جانتی تھی کہ کم لوگ اسے استعمال کریں گے۔
دوسری جانب، 2018 سے انسٹاگرام کی سربراہی کرنے والے ایڈم موسیری نے عدالت میں تمام الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ کمپنی بچوں کی حفاظت سے غافل نہیں ہے اور ان کی پالیسیاں مسلسل بہتر ہو رہی ہیں۔
میٹا کا اصرار ہے کہ نوعمر افراد کے سوشل میڈیا کے استعمال اور ذہنی صحت کے زوال کے درمیان کوئی واضح سائنسی تعلق ثابت نہیں ہوا۔ اس ٹرائل میں جیوری اپنا مشاورتی فیصلہ دے گی جبکہ حتمی فیصلہ امریکی ڈسٹرکٹ جج یوون گونزالی ز روجرز کریں گی کہ آیا میٹا مجرم ہے یا نہیں۔

