امریکا کے بیشتر علاقوں میں نظر آئے گا ، خونی چاند کو کئی افراد نے دجال کی آمد سے جوڑ دیا
واشنگٹن:آسمان کے دلدادہ افراد اور فلکیاتی مناظر دیکھنے کے شوقین افراد کے لیے ایک انتہائی سنسنی خیز ہفتہ شروع ہو چکا ہے۔ رواں ہفتے آسمان پر ایک روٹین کا لیکن انتہائی دلکش چاند گرہن (Lunar Eclipse) رونما ہونے جا رہا ہے، جو کہ امریکہ کے 48 نچلے حصوں، کلاڈ (Canada) اور میکسیکو کے بیشتر علاقوں کے آسمانوں پر واضح طور پر دیکھا جا سکے گا۔
اگر موسم نے ساتھ دیا اور آسمان صاف رہا، تو اس فلکیاتی منظر کے دوران چاند کا پورا 96 فیصد حصہ زمین کے تاریک سائے کے پیچھے چھپ جائے گا۔ اس دوران شائقین ایک سحر انگیز منظر دیکھ سکیں گے جس میں چاند کا رنگ گہرا سرخ (Deep Red Tint) ہو جائے گا، چاند کے کنارے پر اس کی اپنی روایتی سرمئی رنگت کی ایک باریک سی پٹی بھی دکھائی دے گی، جو اس نظارے کو مزید خوبصورت بنا دے گی۔
سازشی تھیوریز اور مذہبی عقائد
اس عام سائنسی اور فلکیاتی واقعے کو جہاں عام لوگ ایک خوبصورت قدرتی نظارے کے طور پر دیکھ رہے ہیں، وہیں دنیا بھر کے کچھ حلقوں اور سازشی تھیوریز (Conspiracy Theories) کے حامیوں میں اس حوالے سے شدید ہلچل مچی ہوئی ہے۔ ان حلقوں کا ماننا ہے کہ کائناتی چکروں اور چاند کی گردش کا یہ حساب کتاب براہ راست مذہبی پیشگوئیوں، ’ریپچر‘ (Rapture) اور دجال کی آمد کے وقت سے بالکل مطابقت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کچھ لوگ اس فلکیاتی تبدیلی کو ایک بڑی اور علامتی تبدیلی کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔
دوسری طرف ماہرینِ فلکیات نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک مکمل طور پر فطری سائنسی عمل ہے جب زمین سورج اور چاند کے درمیان آ جاتی ہے اور اس کا سایہ چاند پر پڑتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس دوران چاند کا سرخ دکھائی دینا زمین کے ماحول سے روشنی کے انعکاس (Rayleigh Scattering) کا نتیجہ ہوتا ہے۔
جمعرات، 27 اگست سے جمعہ، 28 اگست، 2026 کی رات کو ہونے والا چاند گرہن برصغیر پاک و ہند میں نہیں دیکھا جاسکےگا ۔ یہ چاند گرہن شمالی امریکا، جنوبی امریکا، یورپ کے کچھ حصوں، اور مغربی افریقہ میں دیکھا جاسکے گا،
جن علاقوں میں یہ گرہن دیکھا جا سکے گا وہاں کے باسیوں اور فلکیات کے محققین کے لیے یہ نہ صرف ایک سائنسی تحقیق کا بہترین موقع ہے بلکہ عام شہریوں کے لیے قدرت کے اس حسین اور پراسرار جلوے کو قریب سے دیکھنے کا ایک یادگار تجربہ بھی ہوگا۔

