قصور رپورٹ: محمد وقاص اشرف
قصور میں کمسن بچیوں کو مبینہ طور پر بہلا پھسلا کر مساجد کے باتھ رومز تک لے جانے کے مقدمات میں نامزد ملزم غلام عباس پتوکی میں اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔ پولیس نے ضروری قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی، جس کے بعد اسے سپردِ خاک کر دیا گیا۔پولیس کے مطابق غلام عباس چار بچوں کا باپ تھا اور قصور کے مختلف علاقوں میں جھولے لے کر جاتا تھا۔ الزام ہے کہ وہ کمسن بچیوں کو جھولوں، ٹافیوں یا دیگر اشیاء کا لالچ دے کر قریبی مقامات پر لے جاتا اور ان کے ساتھ نازیبا حرکات کی کوشش کرتا تھا۔پولیس ریکارڈ کے مطابق 2017ء میں بھی ایک کمسن بچی سے متعلق مقدمے میں غلام عباس گرفتار ہوا تھا، جس میں عدالت نے ٹرائل کے بعد اسے سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔ سزا مکمل کرنے کے بعد رہائی پر اس کے خلاف دوبارہ اسی نوعیت کی شکایات سامنے آئیں۔پولیس کے مطابق تھانہ بی ڈویژن کی حدود میں بھی ایک کمسن بچی کو جھولے دینے کے بہانے قریبی مسجد کے باتھ روم تک لے جانے کا واقعہ رپورٹ ہوا، جس کے بعد سی سی ڈی نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا۔ تفتیش کے دوران مختلف مقدمات میں حاصل کیے گئے شواہد کے ڈی این اے ٹیسٹ بھی ملزم سے مطابقت رکھتے تھے۔بعد ازاں غلام عباس کو متعلقہ پولیس تھانہ بی ڈویژن کے حوالے کر دیا گیا، جہاں سے وہ پولیس حراست سے فرار ہو گیا۔ سی سی ڈی ٹیم کو ملزم کی پتوکی میں موجودگی کی اطلاع ملی جس پر اس کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا گیا۔ پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں غلام عباس اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ کا نشانہ بن کر ہلاک ہو گیا جبکہ اس کے ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں جبکہ متعلقہ مقدمات کا ریکارڈ اور دیگر شواہد بھی تفتیش کا حصہ ہیں۔


