گلگت بلتستان کے ضلع شگر میں واقع 7027 میٹر بلند سپانتک چوٹی پر خراب موسم کے باعث ڈاکٹر اسما مشتاق کی لاش نکالنے کی کوششوں میں مشکلات کے بعد ہیلی کاپٹر کے استعمال کی منظوری دے دی گئی ہے، جبکہ گلگت بلتستان حکومت اور فورس کمانڈ ناردرن ایریاز کے درمیان رابطہ کاری مکمل کر لی گئی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے اتوار کو بتایا کہ ’شدید برف باری اور تیز ہواؤں کے باعث ریکوری ٹیم کو کیمپ تھری کے قریب سے واپس کیمپ ٹو آنا پڑا، تاہم لاش کی بازیابی کے لیے متبادل انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں اور موجودہ حالات میں جو کچھ ممکن ہوا وہ کیا جائے گا۔‘
اپنے ایکس اکاؤنٹ پر انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کو صورتحال سے مسلسل آگاہ رکھا جا رہا ہے۔
Update on retrieval of Dr Asma's body from Spantik Mountain in the Karakoram range:
High Altitude Porters were expected to reach Camp-3 for retrieval of the body of Dr.Asma and bring it down to base camp by tomorrow.
The rescue team reached almost near Camp 3, but due to… https://t.co/ptpuCOcFQp
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) August 23, 2026
سپانتک چوٹی پر پاکستانی کوہ پیما اور برطانیہ میں مقیم ڈاکٹر اسما مشتاق کی لاش نکالنے کی کوشش شدید برف باری اور تیز ہواؤں کے باعث روک دی گئی تھی۔
پاکستانی کوہ پیما ڈاکٹر اسما مشتاق جمعرات کو سپانتک، جسے گولڈن پیک بھی کہا جاتا ہے، کی چوٹی سے واپسی کے دوران تقریباً 6250 میٹر کی بلندی پر ہائی ایلٹیٹیوڈ سکنیس کے باعث جان کی بازی ہار گئی تھیں۔
ان کی لاش اس وقت کیمپ تھری کے قریب موجود ہے، جبکہ ریسکیو اور ریکوری ٹیم خراب موسم کے باعث وہاں تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ ہائی ایلٹیٹیوڈ پورٹرز کی ٹیم ڈاکٹر اسما کی لاش کو کیمپ تھری سے بیس کیمپ منتقل کرنے کے لیے روانہ ہوئی تھی۔

