لیڈز، انگلینڈ:پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے میچ کے پہلے ہی دن پاکستانی ٹیم انگلینڈ کے خطرناک پیس اٹیک کے سامنے بری طرح ناکام ہوگئی، تاہم میچ کے دوران ایک ایسا انوکھا اور حیرت انگیز واقعہ پیش آیا جس نے دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی ہے۔
لیڈز میں شروع ہونے والے اس ٹیسٹ میچ کے پہلے دن انگلش فاسٹ باؤلرز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستانی بیٹنگ لائن اپ کو محض 171 رنز پر پویلین کی راہ دکھا دی۔
انگلینڈ کی جانب سے جوش ٹنگ (Josh Tongue) اور اولی رابنسن (Ollie Robinson) نے تباہ کن بولنگ کرتے ہوئے پاکستان کے پانچ پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
گیند کے دو ٹکڑے کیوں کیے گئے؟
روایتی طور پر کرکٹ میں جب کوئی گیند باز اننگز میں پانچ وکٹیں (Five-wicket haul) حاصل کرتا ہے، تو وہ اس تاریخی گیند کو یادگار کے طور پر اپنے پاس رکھ لیتا ہے۔ لیکن جب ایک ہی اننگز میں دو مختلف بولرز نے پانچ پانچ وکٹیں حاصل کر لیں، تو یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا کہ اب گیند کس کو دی جائے۔
اس انوکھے مسئلے کا حل نکالتے ہوئے دونوں گیند بازوں نے آپس میں مشاورت کی، اور جوش ٹنگ کی تجویز پر اس تاریخی میچ کی گیند کو درمیان سے کاٹ کر دو ٹکڑے کر دیا گیا تاکہ دونوں بولرز اپنی یادگار کے طور پر ایک ایک حصہ اپنے پاس رکھ سکیں۔
Who wants to see it as a door handle? 😀 pic.twitter.com/G8angAqLh9
— Cricinfo (@cricinfo) August 20, 2026
مڈل ٹیسٹ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جوش ٹنگ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ایسا انوکھا واقعہ پہلی بار دیکھا ہے اور وہ اس یادگار ٹکڑے کو اپنے گھر میں سجائیں گے۔ جبکہ اولی رابنسن کا کہنا تھا کہ یہ جوش کا آئیڈیا تھا، اور چونکہ کرکٹ گیند کے آدھے حصے عام طور پر دیکھنے کو نہیں ملتے، اس لیے یہ ایک ایسی یاد ہے جسے وہ کبھی نہیں بھولیں گے۔
واضح رہے کہ جوش ٹنگ نے 46 رنز دے کر 5 اور اولی رابنسن نے 51 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں۔ اس کارنامے کے ساتھ ہی دونوں نے 2006 میں اولڈ ٹریفورڈ میں پاکستان ہی کے خلاف اسٹیو ہارمیسن اور مونٹی پنیسر کے کارنامے کو دہرایا ہے۔ پہلے دن کا کھیل ختم ہونے تک انگلینڈ نے 2 وکٹوں کے نقصان پر 112 رنز بنا لیے ہیں اور اسے پاکستان پر برتری حاصل کرنے کے لیے مزید رنز درکار ہیں۔

