تیل کی اسمگلنگ، بارٹر سسٹم اور فنڈز کی ترسیل میں مدد دینے والے ممالک اور اداروں کو سنگین اقتصادی نتائج کی وارننگ
واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف "اقتصادی جنگ اور بے مثال تنہائی” شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران نے واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ کرنے کا ایک بڑا موقع ضائع کر دیا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے ایران کو ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے اہم موقع فراہم کیا تھا، لیکن انہوں نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ کسی بھی ملک کے خلاف تاریخ کا سب سے طاقتور اقتصادی اقدام نافذ کر رہے ہیں، جو بے مثال پیمانے پر اقتصادی جنگ اور تنہائی کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی فوجی صلاحیتوں کو پہلے ہی نقصان پہنچایا جا چکا ہے جبکہ معیشت بھی شدید بحران کا شکار ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کی حامی قوتوں کو خبردار کیا کہ جو بھی ملک اپنے مالیاتی اداروں، کمپنیوں یا ہوائی اڈوں کے ذریعے تہران کو معاونت فراہم کرے گا، اسے شدید نتائج بھگتنا ہوں گے۔ انہوں نے تیل کی اسمگلنگ، بارٹر سسٹم، نقد رقم کی منتقلی اور فرنٹ کمپنیوں کے ذریعے ہونے والی سرگرمیوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس اقتصادی اقدام کا مقصد ایران کی دہشت گردی پھیلانے کی صلاحیت کو کچلنا ہے اور وہ کسی بھی صورت تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ یاد رہے کہ جون میں مفاہمت کی یادداشت کے بعد طے پانے والی 60 دن کی مہلت بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو چکی ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

