اسلام آباد: پاکستان کے سابق صدر عارف علوی نے منگل کے روز دعویٰ کیا ہے کہ جیل میں بند پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت بگڑ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی میڈیکل رپورٹس تشویشناک ہیں اور انہوں نے عمران خان کی گھبراہٹ، دل کی دھڑکن بڑھنے اور ہائی بلڈ پریشر (بلند فشارِ خون) پر تشویش کا اظہار کیا۔
ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں علوی نے کہا، ‘عمران خان کی میڈیکل رپورٹس تشویشناک ہیں۔ میں نے کئی ماہرین کے ساتھ ان رپورٹس کا جائزہ لیا ہے اور میں یہ بات آسان زبان میں لکھ رہا ہوں تاکہ ہر پاکستانی ٹھیک سے سمجھ سکے کہ اصل میں ہو کیا رہا ہے۔’
علوی نے کہا کہ انہیں سب سے زیادہ تشویش خان کی ‘بے چینی اور ذہنی تناؤ کی سطح’، ‘دل کی دھڑکن تیز ہونے’ اور ‘ہائی بلڈ پریشر’ کو لے کر ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ رپورٹ میں نیند نہ آنے کا ذکر نہیں ہے، لیکن انہیں دی جانے والی دواؤں سے اس کے اشارے ملتے ہیں۔
عمران خان کی طبی رپورٹس تشویشناک ہیں۔ میں نے کئی ماہرین سے مل کر ان کا جائزہ لیا ہے، اور یہ سادہ الفاظ میں لکھ رہا ہوں تاکہ ہر پاکستانی سمجھ سکے کہ اصل صورتحال کیا ہے۔
ترتیب کے لحاظ سے جو چیز مجھے سب سے زیادہ پریشان کر رہی ہے وہ ہے ان کی ذہنی دباؤ اور اضطراب کی کیفیت ہے، دل کی… pic.twitter.com/IoDwXiKkYw
— Dr. Arif Alvi (@ArifAlvi) August 17, 2026
انہوں نے کہا، ‘میں عمران خان کو 35 سے زیادہ سالوں سے جانتا ہوں۔ ذہنی تناؤ (اسٹریس) کبھی ان کی کمزوری نہیں رہا۔ اب تناؤ کا عروج پر ہونا یہ بتاتا ہے کہ تین سال کی جیل اور مکمل طور پر تنہائی کا ان پر کیا اثر ہوا ہے۔’ علوی نے خان کے تناؤ کی وجہ پاکستان کے حالات، ان کے ساتھیوں کی گرفتاری، انہیں ملنے والی سزاؤں اور ان پر قاتلانہ حملے، نیز خان کی تنہائی اور اخبارات، کتابوں اور بیرونی دنیا کی معلومات تک رسائی نہ ہونے کو قرار دیا۔ انہوں نے خان کے ہارٹ ریٹ (دل کی دھڑکن کی رفتار) کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کا ہارٹ ریٹ بڑھ کر 54 بیٹس پر منٹ (bpm) ہو گیا ہے، جب کہ عام طور پر آرام کی حالت میں ان کا ہارٹ ریٹ اس سے کم رہتا تھا۔
علوی نے کہا، ‘ان کی ہارٹ ریٹ 54 بیٹس پر منٹ (bpm) ہے۔ ڈاکٹر اسے ‘نارمل’ کہیں گے لیکن ان کے لیے یہ نارمل نہیں ہے۔’ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ خان کو دل کی دھڑکن تیز محسوس ہونے کی بھی شکایت تھی۔ علوی نے کہا کہ خان کو ‘فوری طور پر 24 گھنٹے والے ہولٹر مانیٹر (Holter Monitor) کی ضرورت ہے’ اور ان کے بلڈ پریشر کی روزانہ صحیح طریقے سے نگرانی کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کئی میڈیکل ٹیسٹ کی بھی سفارش کی، جن میں اسٹریس ٹیسٹ، ایکو کارڈیوگرام، کارڈیک ایم آر آئی، کارڈیک آرٹری کیلشیم اسکین اور کارڈیک سی ٹی اینجیوگرام شامل ہیں، ساتھ ہی ضرورت پڑنے پر دوسرے ٹیسٹ بھی کروانے کو کہا۔ علوی نے کہا، ‘میں بہت فکر مند ہوں۔ اکیلے رہنے کی وجہ سے ان کے جسم پر برا اثر پڑ رہا ہے۔ اگر اس پر فوری توجہ نہیں دی گئی، تو نقصان ایسا ہو سکتا ہے جسے ٹھیک نہ کیا جا سکے اور آگے مزید مشکلات آ سکتی ہیں۔’
خان کو اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے علوی نے کہا، ‘عمران خان کو اب یقینی طور پر ڈاکٹروں کے ایک آزاد پینل کی زیرِ نگرانی اسپتال لے جانے کی ضرورت ہے۔’ انہوں نے مزید کہا، ‘نہ تو ان کے خاندان کو اور نہ ہی پاکستان کے عوام کو حکومت کی طرف سے مقرر کردہ ڈاکٹروں پر بھروسہ ہے۔’ علوی نے کہا، ‘اگلے تین مہینے یہ طے کریں گے کہ ان کی حالت سدھرے گی یا ہمیشہ کے لیے ویسی ہی بنی رہے گی۔’ انہوں نے آگے کہا، ‘ہم سب فکر مند ہیں۔ ملک کو ان کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔’

