برلن: جرمنی کی معروف کار ساز کمپنی ’اوپل‘ (Opel) کی جانب سے چین کی الیکٹرک کارساز کمپنی ’لیپ موٹر‘ (Leapmotor) کے ساتھ شراکت داری کے اعلان کے بعد، کمپنی کے آبائی شہر رَسلسہائم (Ruesselsheim) میں شدید تشویش اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
یورپی کار ساز کمپنیوں کی طرح مشکلات کا شکار اوپل، چینی کمپنی لیپ موٹر کے ساتھ مل کر ایک نئی ایس یو وی تیار کرنے جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے ہانگ ژو میں قائم اس چینی کمپنی کی الیکٹرک گاڑیوں اور کم لاگت پروڈکشن کی مہارت سے فائدہ اٹھایا جائے گا، جبکہ اوپل کے مقامی انجینئرز کو نسبتاً روایتی گاڑیوں کے ڈیزائن کے کام تک محدود رکھا جا رہا ہے۔
اوپل کی ملٹی نیشنل پیرنٹ کمپنی ’سٹیلانٹس‘ (Stellantis) نے رواں سال اپریل میں اعلان کیا تھا کہ جرمن آٹو انڈسٹری میں جاری بحران کے پیشِ نظر رَسلسہائم ڈویلپمنٹ سینٹر کے کل 1,650 ملازمین میں سے 650 انجینئرنگ کی ملازمتیں ختم کی جا رہی ہیں۔
آئی جی میٹل یونین کے مقامی نمائندے ڈینیل بریْم کا کہنا ہے کہ اس کا سب سے بڑا خطرہ تکنیکی پسماندگی ہے، اور خدشہ ہے کہ یہ انجینئرنگ سینٹر صرف ایک ’اڈاپٹیشن ہب‘ بن کر رہ جائے گا جہاں باہر یا چین میں ڈیزائن کی گئی گاڑیوں میں تبدیلیاں کی جائیں گی۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ فرانس اور اٹلی میں ملازمتیں دی جا رہی ہیں جبکہ جرمنی میں صرف چھانٹی کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب، اوپل کے باس فلوریان ہوٹل نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یورپی مارکیٹ میں چینی مینوفیکچررز کا داخلہ ایک حقیقت ہے، اور اس شراکت داری کا مقصد جرمن صنعتی مہارت اور چینی سافٹ ویئر کی صلاحیتوں کو یکجا کرنا ہے۔
یادرہےایک زمانے میں 1970ء کی دہائی میں جہاں رَسلسہائم پلانٹ میں 42,000 ملازمین کام کرتے تھے، وہیں اب یہ تعداد کم ہو کر 6,800 سے بھی نیچے آ چکی ہے۔ شہر کے میئر پیٹرک برگہارڈ کے مطابق اب اوپل اس شہر کا سب سے بڑا آجر نہیں رہا بلکہ یہ اعزاز فرینکفرٹ ایئرپورٹ کے پاس ہے۔
اگرچہ حال ہی میں سٹیلانٹس کی جانب سے رَسلسہائم میں نئی جنریشن کی اوپل آسٹرا اور ڈی ایس 4 کی تیاری کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے 2029ء تک پلانٹ محفوظ ہو گیا ہے، تاہم شہر کی انتظامیہ نے اب اوپل پر انحصار کم کرنے کے لیے معاشی تنوع (Economic Diversification) کی طرف قدم بڑھانا شروع کر دیے ہیں۔ شہر میں سبز ہائیڈروجن (Green Hydrogen) کے لیے ایک نیا ٹیکنالوجی ہب بنانے کا منصوبہ بھی زیرِ غور ہے تاکہ آنے والے دہائیوں میں شہر کے معاشی مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔
معروف زمانہ جرمن کار کمپنی ’اوپل‘ کا چینی کمپنی سے اشتراک ،ڈاؤن سائزنگ اور شناخت چھننے کا خطرہ

