کنشاسا: ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (ڈی آر سی) میں ایبولا کا موجودہ پھیلاؤ ملکی تاریخ کا اب تک کا سب سے خوفناک اور مہلک ترین وبائی بحران بن چکا ہے۔ صحت کے حکام کے مطابق اس جان لیوا وبا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2,300 سے بڑھ گئی ہے، جس نے 2018 سے 2020 کے دوران آنے والے بڑے ایبولا بحران کا ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے، جس میں 2,299 افراد لقمہ اجل بنے تھے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور کانگو کے محکمہ صحت کے مطابق یہ وبا انتہائی تیزی سے پھیل رہی ہے اور ملک کے متعدد صوبے اس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں ایتوری صوبہ بھی شامل ہے جہاں کا طبی نظام پہلے ہی شدید بحران کا شکار ہے۔
ایبولا ایک انتہائی خطرناک اور متعدی وائرل بیماری ہے جو متاثرہ شخص کے خون اور جسمانی رطوبتوں کے ذریعے پھیلتی ہے۔ موجودہ پھیلاؤ میں سب سے تشویشناک امر یہ ہے کہ بہت سے نئے مریضوں کا پہلے سے زیرِ نگرانی افراد سے کوئی رابطہ سامنے نہیں آ رہا، جس کی وجہ سے طبی کارکنوں کے لیے وائرس کی کڑی کا سراغ لگانا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔
کانگو میں جاری مسلح تنازعات، بڑے پیمانے پر اندرونی نقل مکانی، کمزور طبی ڈھانچہ اور دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولیات تک عدم رسائی نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ لہر میں ’بنڈی بگیو اسٹرین‘ کا وائرس سامنے آیا ہے، جس کے خلاف فی الحال بڑے پیمانے پر منظور شدہ مخصوص ویکسین یا ادویات کی دستیابی نہ ہونے کی وجہ سے طبی ماہرین کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔
ڈبلیو ایچ او اور مقامی انتظامیہ متاثرہ افراد کی فوری شناخت، انہیں قرنطینہ کرنے اور ان کے رابطے میں آنے والوں کی ٹریکنگ پر زور دے رہی ہے۔ تاہم تاخیر سے تشخیص اور علاج کی سہولیات نہ ہونے کے باعث اموات کی شرح بلند رہنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جو افریقہ کے صحت کے نظام کی صلاحیت پر ایک بار پھر بڑے سوالیہ نشان کھڑے کر رہا ہے۔
کانگو میں ایبولا وبا کا مہلک ترین پھیلاؤ: اموات کی تعداد 2,300 سے تجاوز کر گئی،

